اہم خبریں

یورپی ملکوں میں شدید گرمی کی لہر، 10 ہزار بزرگ شہریوں کی اموات

جولائی 13, 2026

یورپی ملکوں میں شدید گرمی کی لہر، 10 ہزار بزرگ شہریوں کی اموات

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ماہ جون کے اواخر میں براعظم کے مغربی حصے کو اپنی لپیٹ میں لینے والی ریکارڈ ساز شدید گرمی کی لہر کے دوران یورپی ممالک میں 10 ہزار سے زائد اضافی اموات ہوئیں۔

عالمی ادارہ صحت کے تعاون سے چلنے والے نیٹ ورک ’یورپین سینٹر فار ڈیزیز پریوینشن اینڈ کنٹرول‘ یورو-مومو (EuroMOMO) کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق مرنے والوں میں سے بڑی تعداد (9 ہزار سے زائد) 65 سال اور اس سے زائد عمر کے افراد پر مشتمل تھی۔

شدید گرمی ہیٹ سٹروک کا باعث بن کر یا دل اور نظامِ تنفس کی بیماریوں کو بڑھا کر جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے، اور اس سے سب سے زیادہ خطرہ معمر افراد کو لاحق ہوتا ہے۔

اس سے قبل جرمنی کے ہیلتھ سسٹم نے بتایا کہ ملک میں‌گرمی کے باعث پانچ ہزار برزگ شہری اموات ہوئی ہیں-

ڈنمارک کے ‘سٹیٹنز سیرم انسٹی ٹیوٹ’ ( EuroMOMO کا میزبان ادارہ) کے چیف فزیشن لاسے ویسٹرگارڈ نے خبر رساں ایجنسی روئٹرز کو بتایا کہ "سال کے اس حصے میں اموات کی اس قدر زائد تعداد کا ہونا غیرمعمولی بات ہے۔ یہ شرح واقعی بہت زیادہ ہے۔”

ویسٹرگارڈ نے مزید کہا کہ "شدید گرمی کے علاوہ کسی اور وجہ سے اموات کی شرح میں اس غیرمعمولی اضافے کی وضاحت کرنا مشکل ہے۔”

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ جون کے اواخر میں آنے والی شدید گرمی کی لہر (ہیٹ ویو) انسانی سرگرمیوں کے باعث ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں کے بغیر "تقریباً ناممکن” تھی؛ انہی تبدیلیوں کی وجہ سے گرمی کی لہریں زیادہ کثرت سے آ رہی ہیں اور ان کی شدت میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

یورپ کے 27 ممالک میں اموات کے قومی اعداد و شمار سے حاصل کردہ اس معلومات میں 22 سے 28 جون کے ہفتے کے دوران ہونے والی اموات کی وہ زائد تعداد بھی شامل ہے جو کسی بھی وجہ سے ہوئیں (نہ صرف گرمی سے متعلقہ)؛ اسی ہفتے کے دوران فرانس، سپین، برطانیہ اور دیگر ممالک میں گرمی کی لہر اپنے عروج پر تھی۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے