امریکی حملوں کے جواب میں ایران نے 6 پڑوسی ملکوں کو نشانہ بنایا
ایران نے گزشتہ ہفتے سے اب تک چھ پڑوسی ملکوں کو ڈرونز اور میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے-
تہران کی جانب سے پڑوسی ملکوں کے خلاف نئے حملوں کا آغاز اُس وقت کیا گیا جب امریکہ کی جانب سے ایران کے مختلف شہروں پر میزائل داغے گئے-
امریکی فوجی حکام کے مطابق ان حملوں کی وجہ ایرانی افواج کی جانب سے سمندری راستے ہرمز میں بحری جہازوں پر حملے ہیں-
پیر کو تہران نے بحرین، اردن اور کویت میں امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ تاہم اتوار سے اب تک مشرقِ وسطیٰ کے چھ ممالک نشانہ بنائے جانے کی اطلاع دے چکے ہیں جن میں قطر، عمان اور متحدہ عرب امارات بھی شامل ہیں۔
خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب نے تازہ بیان میں کہا ہے کہ اس نے امریکہ کے اتحادی ملک اردن میں کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر اور ڈرون ہینگر تباہ کر دیے ہیں اور کویت میں ایک امریکی ریڈار سائٹ کے ساتھ ساتھ راکٹ لانچر نظام کو بھی نشانہ بنایا ہے۔
اس کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس نے عمان میں امریکی طیارہ بردار جہازوں کی معاونت کرنے والے پلیٹ فارمز پر حملہ کیا ہے اور قطر میں لڑاکا طیاروں کی دیکھ بھال کے کمانڈ سینٹر کو تباہ کیا ہے۔
قطر کے مطابق وہ اب ثالثی کا کردار ادا نہیں کرے گا۔ اس نے کہا کہ گرتے ہوئے دھاتی ٹکڑوں سے ایک بچہ سمیت تین افراد زخمی ہوئے ہیں۔ قطر نے کہا کہ اس حملے کی ’مکمل قانونی ذمہ داری‘ ایران پر عائد ہوتی ہے۔
اتوار کو متحدہ عرب امارات نے کہا تھا کہ اس نے اپنی سرحدوں سے باہر میزائل خطرے کی نشاندہی کی۔ جبکہ بحرین نے کہا کہ اس نے ایران کے کئی فضائی حملوں کو ناکام بنایا ہے۔
اردن نے میزائل حملوں کی اطلاع دی جبکہ عمان نے کہا کہ اسے ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا ہے۔
بعد ازاں کویت کی فوج نے حملوں سے ہونے والے نقصان کی اطلاع دی اور کہا کہ تیل کی تنصیبات پر حملے میں ایک کارکن زخمی ہو گیا ہے۔
عمان نے کہا کہ اس نے دو علاقوں میں ڈرون حملوں پر احتجاجاً ایرانی سفیر کو طلب کیا ہے۔ جبکہ عمان میں امریکی سفارت خانے نے دقم اور مسندم میں موجود اپنے شہریوں کو محفوظ پناہ لینے کی ہدایت جاری کی۔