پاکستان

اس کو خاموش کرائیں، یہ ملزم ہے: جج کی عمران خان کے وکیل کو ہدایت

جون 19, 2023

اس کو خاموش کرائیں، یہ ملزم ہے: جج کی عمران خان کے وکیل کو ہدایت

اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے دلچسپ دلائل دیے ہیں۔

پیر کو جج جواد عباس کی عدالت میں اُن کے دلائل کچھ یوں تھے:

پٹشنر کا کنڈکٹ اور باڈی لینگویج کو عدالت خود دیکھ سکتی ہے۔ عمران خان کا کنڈکٹ فائل سے بھی نظر آئے گا اور عمومی بھی نظر آئے گا۔

اگر 71 کی بجائے 17 سال کا جوان لڑکا ہوتا تو وہ بھی کہتا 150 کیسز سے میں نہیں لڑ سکتا۔ عمران خان کا کنڈکٹ عدالت کے سامنے ہمیشہ مثبت رہا ہے۔

درخواست گزار عدالت میں موجود ہیں، تھانہ سنگجانی میں درج مقدمہ سب سے پرانا ہے، یہ 2022 میں درج ہوا۔ سب سے پہلے میں مقدمات کے پس منظر پر بات کرنا چاہوں گا۔

493 کا ریلیف غیر معمولی حالات میں غیر معمولی شخصیات کو دیا جاتا ہے، ان مقدمات میں بدنیتی شامل ہے۔ درخواست گزار کا کرکٹنگ ہسٹری میں بہت صاف ریکارڈ ہے۔

درخواست گزار نے پاکستان کو بہت سے انعامات جتوائے۔درخواست گزار فلاحی بہبود کے کاموں میں بھی بہت آگے ہیں۔ شوکت خانم اسپتال اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

چیئرمین پی ٹی آئی کی کرکٹ میں خدمات دنیا کے سامنے ہے۔ پاکستان کے لیے چیرمین پی ٹی آئی نے 1992 میں ورلڈکپ بھی جیتا۔

پاکستان کی قوم کی سربراہی کرکٹ گراؤنڈ میں بھی کی۔

درخواست گزار ملک کے 22ویں وزیر اعظم رہے ہیں، درخواست گزار کے دور میں احتساب کا سلسلہ شروع ہوا۔ درخواست گزار کے دور میں کرپشن کے مقدمات چلے جو اپنے اختتام کو پہنچے اور سزائیں ہوئیں۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے بطور بائیسواں وزیراعظم قوم کی خدمت کی۔ اُن کے دور حکومت میں پراسیکیوشن کا غلط استعمال نہیں کیا گیا۔

چیئرمین پی ٹی آئی کے دور حکومت میں مخالف سیاسی لیڈران نے ملک چھوڑنا شروع کردیا۔ سیاسی مخالفین پر ایک سے دو مقدمات تھے، 160 نہیں۔

درخواست گزار کی حکومت جانے کے بعد سیاسی انتقام بنانے کا سلسلہ شروع ہوا، سیاسی حریفوں نے درخواست گزار سے بدلہ لینے کیلئے یہ سب کیا۔

درخواست گزار اور ان کی پارٹی کو نشانہ بنایا گیا، درخواست گزار اور ان کی پارٹی کیخلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے، شہباز گل کا پہلا کیس تھا جس میں کسٹوڈیل تشدد کی بات سامنے آئی۔

سلمان صفدر نے بتایا کہ ایک وقت تھا سیکشن 6 اور 7 اے ٹی اے ختم ہوگئی تھی، ہائی کورٹ نے فیصلے میں کہا کوئی شہری پولیس اہلکار کو خوف زدہ نہیں کرسکتا، اسلام آباد نے دہشتگردی کی دفعات ختم کرنے کا حکم دیا۔

سلمان صفدر کے مطابق تمام کیسز میں کوئی پرائیویٹ مدعی نہیں اور تمام کیسز میں پولیس ہی متاثرہ فریق ہے۔
سلمان صفدر نے کہا کہ پولیس بتا دے کہ کتنے کیسز میں گرفتاری درکار ہے؟

پراسکیوٹر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ عمران خان صرف پانچ کیسز میں شامل تفتیش ہوئے ہیں۔

سلمان صفدر نے کہا کہ اس کا مطلب ہے پراسیکیوشن کو تمام کیسز میں چیرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری درکار ہے۔

تین مختلف عدالتوں میں عمران خان 17 مقدمات میں پیش ہوئے اور ضمانت کی مدت میں توسیع کرائی.

اس دوران ایک موقع پر عدالت میں عمران خان کارروائی میں مداخلت کرتے رہے تو جج برہم ہو گئے اور ان کے وکیل سے کہا کہ : اس کو خاموش کروائیں یہ ملزم ہے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے