پرویز الہٰی پر منی لانڈرنگ کا مقدمہ، ایف آئی اے نے گرفتار کر لیا
تحریک انصاف کے صدر اور پنجاب کے سابق وزیراعٰلی پرویز الہٰی کو اب وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے منی لانڈرنگ مقدمے میں گرفتار کر لیا ہے۔
پرویز الہٰی کی گزشتہ روز ایک مقدمے میں ضمانت منظور کی گئی تھی۔
ایف آئی اے ٹیم پرویز الہی کو لے کر ضلع کچہری روانہ ہوئی جہاں عدالت سے ایف آئی اے حکام نےپرویز الٰہی کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی جسے مسترد کر دیا گیا.
عدالت نے پرویز الٰہی کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا.
گزشتہ ہفتے پرویز الہیٰ نے کہا تھا کہ وہ 10 دن سے جیل میں ہیں پارٹی چھوڑنے کے لیے پریس کانفرنس کیسے کریں۔
لاہور کچہری میں پیشی کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے صدر نے کہاتھا کہ اُن کی صحت بہت خراب ہے۔
چوہدری پرویز الہی نے کمرہ عدالت سے صحافیوں کو بتایا کہ اُن کو دس روز سے جیل کے چھوٹے سے کمرے میں بند رکھا گیا۔
پرویز الہی کا کہنا تھا کہ جیل کے کمرے میں ہوا کے لیے پنکھا بھی کبھی چلتا ہے کبھی نہیں، گھروں والوں سے ملاقات بھی نہیں کروائی جا رہی۔
ایک رپورٹر نے سوال کیا کہ کیا چوہدری صاحب آپ پی ٹی آئی چھوڑ رہے ہیں، آج کل تو لوگ پریس کانفرنس کر کے پارٹی چھوڑنے کا اعلان کرتے ہیں۔
پرویز الہی نے جواب دیا کہ ”مجھے ملنے نہیں دیا جا رہا پریس کانفرنس کیسے کر دوں، ادھر عدالت میں بھی میڈیا سے بات نہیں کرنے دی جارہی۔

