بلوچستان میں قومی شاہراہ پر کوئلے سے لدے 9 ٹرک تباہ، حملہ آور فرار
پاکستان کے صوبے بلوچستان میں نامعلوم عسکریت پسندوں نے کوئلے سے بھرے نو ٹرکوں کو آگ لگا کر تباہ کر دیا جبکہ چار ٹرکوں کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔
یہ واقعہ صوبےکے ضلع زیارت میں ہرنائی کوئٹہ شاہراہ پر پیش آیا جہاں موقعے پر پہنچنے والے ڈپٹی کمشنر کے قافلے پر بھی فائرنگ کی گئی۔
یہ کوئلے کی ترسیل کرنے والے ٹرکوں پر ایک ماہ کے دوران دوسرا حملہ ہے۔ منگل کو رات گئے کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی نے ایک بیان جاری کر کے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی۔
خطرات میں اضافوں اور مسلسل حملوں کے باعث کوئلے کے شعبے سے وابستہ مزدور، ٹرک ڈرائیور، ٹھیکے دار اور مالکان خوف کا شکار ہیں اور ان کا روزگار اور کاروبار بھی متاثر ہے۔
ٹرانسپورٹرز نے تحفظ فراہم نہ ملنے کی صورت میں کوئلے کی ترسیل بند کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر زیارت شبیر احمد بادینی کے مطابق ’مسلح عسکریت پسندوں نے قریبی پہاڑوں سے اتر کر کوئلہ لے جانے والے ٹرکوں کو اسلحے کے زور پر روکا اور ڈرائیور اور عملے کو اتار کر ٹرک نذر آتش کر دیے۔‘
ڈی سی نے کہا کہ ’انہوں نے آٹھ ٹرکوں اور ایک ڈمپر کو آگ لگائی جبکہ تین ٹرکوں اور ایک ڈمپر کے ٹائروں سے ہوا نکال دی گئی اور انہیں نقصان پہنچایا گیا۔‘

