پاکستان

توشہ خانہ فوجداری کارروائی قابلِ سماعت، 12 جولائی سے ٹرائل کا آغاز

جولائی 8, 2023

توشہ خانہ فوجداری کارروائی قابلِ سماعت، 12 جولائی سے ٹرائل کا آغاز

اسلام آباد کی مقامی عدالت نے سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس میں فوجداری کارروائی کی درخواست کو قابل سماعت قرار دے دیا ہے۔

سنیچر کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر توشہ خانہ کیس کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے سے متعلق معاملے پر سماعت ایڈیشنل سیشن جج ہمایوں دلاور نے کی۔

عمران خان کے وکیل خواجہ حارث عدالت میں پیش نہ ہوئے۔ بیرسٹر گوہر کی جانب سے پیر تک سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کی گئی اور موقف اپنایا گیا کہ آج الیکشن کمیشن کے وکیل اپنی بحث کر لے ہم اگلے ہفتے دلائل دیں گے۔

دوران سماعت الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز کی جانب سے طویل دلائل دیے گئے۔

عدالت کی جانب سے ریمارکس دیے گئے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے آپ کو اتنا بڑا ریلیف دیا ہے، جس پر وکیل گوہر علی خان نے موقف اپنایا کہ ہائی کورٹ نے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف کو کوئی ریلیف نہیں دیا بلکہ ہمیں سننے کے لیے آپ کے پاس بھیجا۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان سے ان کا حق لیا جا رہا ہے۔ 12 جولائی تک وقت ہے جلدی میں فیصلہ کیا تو ناانصافی ہو گی۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ ’خواجہ حارث سینیئر وکیل ہیں ان سے اس طرح کا رویہ توقع نہیں کیا جا سکتا۔ توشہ خانہ کیس پر ہر پاکستانی کی نظر ہے۔ جب سے یہ کیس میری عدالت آیا دیگر کیسز رک گئے۔‘
عدالت کی جانب سے فیصلہ محفوظ کر لیا گیا۔

جج ہمایوں دلاور نے ریمارکس دیے کہ عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل کو وقت دیا لیکن دلائل نہیں دیے گئے۔ عدالت عمران خان کے وکیل کی دلائل دینے کے لیے پیر تک مہلت دینے کی استدعا مسترد کرتی ہے۔

محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے توشہ خانہ فوجداری کارروائی سے متعلق کیس کو قابل سماعت قرار دے دیا۔ عدالت نے 12 جولائی کو گواہان کو شہادت کے لیے طلب کر لیا۔

12 جولائی سے توشہ خانہ فوجداری کارروائی کے ٹرائل کا باقاعدہ آغاز ہو گا۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے