دو شعری مجموعوں کے خالق شاعر ڈی آئی جی شارق جمال کی پُرسرار موت
پنجاب کے ڈی آئی جی شارق جمال لاہور کے علاقے ڈی ایچ اے کے ایک فلیٹ میں رات گئے مردہ پائے گئے ہیں.
لاہور پولیس کے ترجمان نے ڈی آئی جی کی موت کی تصدیق کی ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق موت کے وقت شارق جمال کے آس پاس موجود افراد سے تفتیش کی جا رہی ہے.
ان کو ہسپتال لانے والے مرد اور خاتون کو حراست میں لیا گیا ہے.
ڈی آئی جی شارق جمال ادب اور شاعری کا کلاسیکی ذوق رکھتے تھے۔
شارق جمال خاں کے دو شعری مجموعے بھی ہیں۔ ایک مجموعہ ’آتش زیر پا‘ کے عنوان سے اور دوسرا مجموعہ ’فسانہ کون و مکاں‘ ہے۔
ان کی ایک غزل کے اشعار:
تیرے حسن و جمال تک پہنچا
میں بھی کتنے کمال تک پہنچا
بعد مدت کے ذہن آشفتہ
ایک نازک خیال تک پہنچا
اے مرے شوق بے مثال مجھے
آج اس بے مثال تک پہنچا
اک زوال عروج سے ہو کر
میں عروج زوال تک پہنچا
ذہن آزاد ہو گیا میرا
جب یقیں احتمال تک پہنچا
تذکرہ حسن کے تناسب کا
پھر ترے خد و خال تک پہنچا
اک معمہ تھا میرا مستقبل
کتنی مشکل سے حال تک پہنچا
اس طرح میں ترے قریب آیا
جیسے ممکن محال تک پہنچا
یہ ہوس بھی کمال تک پہنچی
وہ بدن بھی کمال تک پہنچا
اک گلہ زندگی کے ہونے کا
ہوتے ہوتے ملال تک پہنچا
اک خلش سی رہی کہیں دل میں
ہجر جب بھی وصال تک پہنچا
تھا ازل سے سوال کے اندر
جو جواب اب سوال تک پہنچا
شارقؔ اس عشق کے وسیلے سے
میں جلال و جمال تک پہنچا

