معدنیاتی پروجیکٹس عوام کی ترقی کا زینہ ہیں: آرمی چیف
پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے کہا ہے کہ معدنیاتی پروجیکٹس عوام کی ترقی کا زینہ ہیں.
منگل کو آرمی چیف نے پاکستان منرل سمٹ سے خطاب میں کہا کہ حکومتِ پاکستان نے تمام اداروں کے ساتھ مل کر سپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل کے قیام کو یقینی بنایا۔
آرمی چیف نے کہا کہ حال ہی میں قائم کی گئی سپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل کا قیام تمام شراکت داروں کو ایک پلیٹ فارم پر لاتا ہے۔
آرمی چیف کا کہنا تھا کہ ذرا اپنے ملک پر نظر تو ڈالیں، برف پوش پہاڑوں سے لے کر صحرائوں کی وسعت تک ، ساحلی پٹی سے میدانی علاقوں تک۔ اس سر زمین میں کیا کچھ نہیں ہے۔
آرمی چیف نے کہا کہ امن اور خوشحالی کے راستے پہ گامزن رہنا ہی استقامت ہے۔
جنرل عاصم کے مطابق معدنیاتی پروجیکٹس عوام کی ترقی کا زینہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سورہ رحمان میں اللہ رب العزت نے فرمایاہے کہ “اور تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے”
ان کے مطابق اگر ہمارا یہ مشترکہ عزم رہا تو پھر آسمان کی بلندیاں ہماری حد اور اسکی وسعتیں ہماری منتظر ہیں۔
آرمی چیف نے قرانی حوالہ دے کر واضح کیا کہ :
اللہ ان کی مدد کرتا ہے جو خود اپنی مدد آپ کرتے ہیں۔
آرمی چیف نے بیرک گولڈ کے سی ای او اور پریذیڈنٹ مارک برسٹو اور سعودی مائننگ منسٹر انجینئیر خالد بن صالح المدیفر اور دیگر سرمایہ کاروں کا شکریہ ادا کیا۔
آرمی چیف نے علامہ اقبال کا شعر بھی پڑھا :
تیرے دریا میں طوفاں کیوں نہیں ہے
خُودی تیری مسلماں کیوں نہیں ہے
عبث ہے شکوہِ تقدیرِ یزداں
تو خود تقدیرِ یزداں کیوں نہیں ہے
آرمی چیف کے مطابق یہ ہماری معاشرتی ذمہ داری ہے کہ ہم مل کر ملکی معیشت میں اپنا کردار ادا کریں، ہمیں کبھی امید کا دامن نہیں چھوڑنا چاہئے۔
آرمی چیف کا کہنا تھا کہ ہماری سرزمین بہت سے معدنیات سے مزین ہے اور اس صلاحیت کو مکمل طریقے سے استعمال میں لانے کے لیے ہم نے بیرونی سرمایہ کاروں کو دعوت دیتے ہیں کہ پاکستان میں چھپے خزانوں کی دریافت میں اپنا کردار ادا کریں۔
آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان کا پہلا منرل سمٹ پاکستان میں ملکی وغیر ملکی سرمایہ کاروں آسان کاروبار کے نئے اصول وضع کرتا ہے۔
آرمی چیف کے مطابق ہم ایسے سرمایہ کار دوست نظام کو یقینی بنائیں گے جس میں آسان شرائط اور غیر ضروری التواء سے بچا سکے۔
جنرل عاصم منیر نے کہا کہ ہمارے ملک میں موجود کان کنی کے وسیع تر مواقع ہیں جو کہ مشترکہ کاوشوں سے عمل پذیر لائے جائیں گے۔
آرمی چیف نے امید کے دامن کو تھامے رکھنے اور اللہ رب العزت پر یقین و ایمان رکھنے پر زور دیا اور قران کریم کے سورہِ بقرہ کی آیت ۱۵۵ اور ۱۵۶ کی تلاوت کی جس کا ترجمہ ہے :
“اور ہم ضرور تمہیں خوف اور بھوک اور جان و مال و ثمرات سے آزمائیں گے ۔ اُن پر جب کوئی مصیبت پڑتی ہے تو کہتے ہیں ؛ بے شک ہم اللہ کی طرف سے ہیں اور ہمیں اُسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے”.
یہ بیان پاکستان کی فوج کی جانب سے غیر رسمی طور پر جاری کیا گیا۔

