پاکستان

پارلیمان میں چار اینکروں کو شکست، پیمرا ترمیمی بل منظور

اگست 9, 2023

پارلیمان میں چار اینکروں کو شکست، پیمرا ترمیمی بل منظور

پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (ترمیمی) بل 2023 پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں (سینیٹ اور قومی اسمبلی) سے اتفاق رائے سے منظور کر لیا گیا ہے۔

قانون میں ترمیم کے اس بل کے خلاف اینکر حامد میر نے متعدد پروگرام کیے اور سینیٹ کی کمیٹی میں اینکر محمد مالک، کاشف عباسی اور عامر متین کے ساتھ مل کر اس کی مخالفت کی۔

قانون میں ترمیم کے بعد اب حکومتی اشتہارات کو نیوز چینلز کے کارکنوں کی تنخواہوں کے ساتھ مشروط کیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے پیمرا (ترمیمی) بل 2023ءسینیٹ میں پیش کیا اور کہا کہ اپریل 2022ءمیں پیمرا آرڈیننس میں ترمیم کے عمل کا آغاز کیا۔

مریم اورنگزیب کے مطابق اس میں بہت سی شقوں کی تبدیلی ضروری تھیں۔

اے پی این ایس، سی پی این ای، پی ایف یو جے، پی بی اے، ایمنڈ سمیت تمام میڈیا نمائندوں کے ساتھ مل کر اس پراسیس کو شروع کیا گیا۔

مریم اورنگزیب نے بتایا کہ طویل مشاورت کے بعد مس انفارمیشن، ڈس انفارمیشن کو اس بل میں شامل کیا گیا۔

پیمرا آرڈیننس 2002ءکے تحت چیئرمین پیمرا کسی بھی چینل کو بند کر سکتا ہے، معطل کر سکتا ہے، لائسنس منسوخ کر سکتا ہے، چلتے پروگرام کو بند کر سکتا ہے۔

اس بِل کے ذریعے چیئرمین پیمرا کے یک طرفہ اختیار کو اتھارٹی میں تقسیم کیا، کونسل آف اتھارٹی کو اختیار دیا، اس میں اپیل کا حق دیا گیا۔

مریم اورنگزیب نے بتایا کہ اب تک الیکٹرانک میڈیا ورکرز کے لیے کوئی پلیٹ فارم موجود نہیں تھا جبکہ نیوز پیپرز ملازمین کے لئے آئی ٹی این ای کا پلیٹ فارم دستیاب تھا۔

پی ایف یو جے، پی آر اے، آر آئی یو جے سمیت مختلف نمائندوں سے مل کر اس ترمیم کو شامل کیا گیا کہ کوئی ادارہ ملازمین کے واجبات ادا نہیں کرتا تو حکومت انہیں اشتہارات نہیں دے گی۔

اگر کوئی ادارہ کم از کم اجرت ادا نہیں کرے گا تو اسے بھی حکومتی بزنس جاری نہیں کیا جائے گا۔

آئی ٹی این ای نے 9 ماہ میں 14 کروڑ روپے ریکور کر کے ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کی۔

تین شقیں اس بل میں شامل کی گئیں، 12 ماہ اس پر مشاورت ہوئی۔ قومی اسمبلی میں 10 سے 12 دن تک یہ بل موجود رہا، وہاں اس پر بحث ہوئی۔

اُن کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی سے یہ بل منظور ہوا، اس کے بعد یہ بل سینیٹ اجلاس میں پیش کیا گیا، میری درخواست پر یہ بل سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو بھیجا گیا تاکہ اس میں مزید رائے آ جائے، مریم اورنگزیب

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں چیئرمین پیمرا کی سلیکشن کا اختیار پارلیمان کو دینے کی رائے دی گئی، وزیراعظم نے اس ترمیم کی فوری منظوری دی، مریم اورنگزیب

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں آگاہ کیا کہ دونوں شقیں قانون کا حصہ ہیں۔

مس انفارمیشن اور ڈس انفارمیشن کی تعریف کو 12 ممالک اور اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس کمیٹی کی ڈیفی نیشن سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے تیار کی۔

سی پی این ای، ایمنڈ، پی ایف یو جے، پی بی اے کے لوگوں نے کمیٹی میں آ کر تصدیق کی کہ ہم نے اس بل کی تیاری میں مشاورت میں حصہ لیا، میڈیا نمائندوں نے کہا کہ بل حکومت نے پیش کیا ہے لیکن یہ میڈیا انڈسٹری کا بل ہے۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ اس بل کے خلاف پروپیگنڈا کر کے ورکرز کے حقوق صلب کرنے کی کوشش کی گئی، بل کو پڑھے اور سمجھے بغیر متنازع بنانے کی کوشش کی گئی۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے