پاکستان

شہریار آفریدی اور شاندانہ گُلزار کی حراست، اسلام آباد ہائیکورٹ کا سخت حکم

اگست 15, 2023

شہریار آفریدی اور شاندانہ گُلزار کی حراست، اسلام آباد ہائیکورٹ کا سخت حکم

اسلام آباد ہائیکورٹ نے نقصِ امن کے قانون کے تحت زیرِ حراست تحریک انصاف کے رہنماؤں شہریار آفریدی اور شاندانہ گُلزار کو عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

منگل کو شہریار آفریدی اور شاندانہ گلزار کی تھری ایم پی او کے تحت گرفتاری کے خلاف درخواستوں پر سماعت جسٹس بابر ستار نے کی۔

وکیل شیر افضل مروت نے بتایا کہ شہریار آفریدی کے معاملے میں یہ ساتواں ایم پی او آرڈر پاس ہوا اور ملزم 90 روز سے جیل میں ہے۔

عدالت کی ہدایت پر ایم پی او آرڈر پڑھا گیا ۔

جسٹس بابر ستار نے پوچھا کہ اس سے پہلے ڈی سی نے کون سا ایم پی او کا آرڈر جاری کیا تھا ؟

شہریار آفریدی کے خلاف جاری کیا گیا پہلے کا تھری ایم او آرڈر پڑھا گیا۔

عدالت کو بتایا گیا کہ سات مقدمات میں گرفتاری ہوئی پھر وہ ضمانت پر رہا ہو گئے۔ سات ایم پی اوز کے آرڈر شہریار آفریدی کے خلاف اب تک غیر قانونی قرار دئیے جا چکے ہیں۔

جسٹس بابر ستار نے پوچھا کہ کون سی جگہ رہ گئی ہے، بلوچستان؟

وکیل شیر افضل مروت نے بتایا کہ بلوچستان اور سندھ دو صوبے رہ گئے جہاں سے ابھی تک ایم پی او جاری نہیں ہوئے۔

سرکاری وکیل کی جانب سے ایم پی او کا آرڈر پڑھا گیا۔

جسٹس بابر ستار نے پوچھا کہ درخواست گزار کس تاریخ کو اکسا رہا تھا؟ جو آپ پڑھ رہے ہیں اس میں کچھ نہیں۔

جسٹس بابر ستار نے کہا کہ کسی شہری کو حراست میں رکھنا ہے تو اس کی وجوہات دینا ہوں گی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے کل بدھ کو شہریار آفریدی کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

ڈی سی اسلام آباد اور ایس ایس پی آپریشنز کو شوکاز نوٹس بھی جاری کیے گئے۔

عدالت نے ڈی سی اسلام آباد سے کل تک تین ماہ کے ایم اوز کا ریکارڈ بھی طلب کر لیا۔

عدالت نے چیف کمشنر اسلام آباد کو بھی ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے نوٹس میں پوچھا کہ جواب دیں کیوں نہ اُن کے خلاف توہین عدالت کی فوجداری کاروائی عمل میں لائی جائے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کی رہنما شاندانہ گلزار کی تھری ایم پی او کے تحت گرفتاری کے خلاف درخواست کی سماعت کے بعد اُن کو بھی عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا۔

عدالت نے آئی جی اسلام آباد کو ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے حکم دیا کہ جس پولیس افسر نے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو معلومات دیں وہ بھی عدالت میں پیش ہو۔

عدالت نے ڈی سی اسلام آباد سے کل تک تین ماہ کے ایم پی اوز کا ریکارڈ طلب کر لیا۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے