پاکستان

پارلیمانی رپورٹرز کی تنظیم کا اجلاس، حامد میر اور عامر متین کو نکالنے کی قراردار منظور

اگست 16, 2023

پارلیمانی رپورٹرز کی تنظیم کا اجلاس، حامد میر اور عامر متین کو نکالنے کی قراردار منظور

اسلام آباد میں پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن نے پیمرا ترمیمی بل 2023کی مخالفت پر اینکرز حامد میر اور عامر متین کو تنظیم سے نکالنے کی قرارداد منظور کی ہے۔

اینکر پرسن حامد میر اور عامر متین پی آراے کے اعزازی رکن تھے۔

بدھ کو ایسوسی ایشن کی جنرل کونسل کے اجلاس میں سابق صدر بہزادسلیمی کی پیش کردہ قرارداد منظور کرتے ہوئے دونوں اینکرز کو تنظیم سے نکالنے کی منظوری کثرت رائے سے دی گئی۔

پی آر اے کی جنرل کونسل کا اجلاس صدر صدیق ساجد کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہائوس میں ہوا۔

حامد میر اور عامر متین کو پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن سے نکالنے کی قرارداد سابق صدر پی آر اے بہزادسلیمی نے پیش کی۔

بہزادسلیمی نے کہا کہ کارکن صحافیوں سے اظہاریکجتی کا حق ادا کرنے کے لیے کارکن دشمن اینکرز کے خلاف قرار داد پیش کر رہا ہوں۔

قرار داد میں کہا گیا کہ حامد میر اور عامر متین نے الیکٹرانک میڈیا سے وابستہ کارکن صحافیوں کے حقوق کے ضامن بل کی مخالفت کرکے پی آراے کے ڈسپلن کی خلاف ورزی کی۔

قرارداد کے مطابق اگر پی آر اے کے ممبر رپورٹر کا ڈسپلن کی خلاف ورزی پر احتساب کیا جاتا ہے تو دونوں اینکرز بطور اعزازی ممبر احتساب سے ماورا نہیں۔
قرارداد میں مزید کہا گیا کہ اگر دونوں اینکرز کا احتساب ممکن نہیں تو پھر کسی رپورٹر کے خلاف ڈسپلن کی خلاف ورزی پر کارروائی کا بھی کوئی جواز نہیں رہتا۔

قرارداد میں کہا گیا کہ چونکہ دونوں اینکرز کونسل ممبر نہیں ، اس لیے جنرل کونسل ان کی اعزازی رکنیت ختم کرے۔

پی آراے کے صدر صدیق ساجد نے قراداد منظوری کے لیے جنرل کونسل کے سامنے پیش کی۔

صدر پی آراے صدیق ساجد نے کہا کہ حامد میر اور عامر متین نے نہ صرف پیمرا ترمیمی بل کی قائمہ کمیٹی میں مخالفت کی بلکہ ایوان صدر میں بھی مخالفت کی۔

پی آراے کی جنرل کونسل کے ارکان کی اکثریت نے قرارداد کی حمایت کی۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے