علی وزیر اور ایمان مزاری عدالت میں پیش، جسمانی ریمانڈ منظور
اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے ایمان مزاری اور علی وزیر کو تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔
پیر کو پولیس کی تحویل میں دونوں کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا گیا۔
عدالت میں سابق رُکن قومی اسمبلی علی وزیر نے جج کو جناب سپیکر کہہ کر مخاطب کیا اور پھر اس پر معذرت کی۔
علی وزیر نے عدالت کو بتایا کہ نگران حکومت نے پی ٹی ایم کی قیادت سے کہا کہ سپریم کورٹ کے سامنے نہ بیٹھیں۔
علی وزیر کے مطابق ہمیں کہا گیا کہ آپ جلسہ کریں لیکن ترنول میں بیٹھ جائیں۔
علی وزیر نے بتایا کہ ترنول گئے وہاں جلسہ کیا، جوں ہی جلسہ ختم ہوا وزیر داخلہ نے ٹویٹ کر کے ہمارا شکریہ ادا کیا، مجھے فون بھی کیا گیا۔
انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ابوالحسنات نے کہا کہ اتنا پیارا وطن ہے اگر یہاں رہ کر یہ معاملات ہوں گے تو ہم کہاں جائیں گے، میں کہتا ہوں ملک ہے تو ہم ہیں۔
دوسری جانب ایمان مزاری کے مقدمے میں اُن کی وکیل زینب جنجوعہ نے عدالت کو بتایا کہ امید کرتے ہیں فیئر ٹرائل کے تناظر میں ہماری ملاقات یقینی بنائی جائے گی۔
عدالت کو بتایا گیا کہ وکلا کو بھی ایمان مزاری سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ کل ایمان مزاری لاک اپ میں بے ہوش ہوئیں۔
وکیل نے بتایا کہ ایمان مزاری کے جینڈر کی وجہ سے بھی ان کی عزت و احترام کا خیال نہیں رکھا جا رہا۔
سرکاری وکیل کے مطابق ایمان مزاری نے دوبارہ وہی جرم کیا جو انہوں نے پہلے کہا تھا۔
عدالت نے وکلا کے دلائل کے بعد تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا۔

