پاکستان

پشاور ہائی کورٹ: چترال یونیورسٹی میں سلیکشن بورڈ اور انٹرویوز روک کر وائس چانسلر کو توہین عدالت کا نوٹس

اگست 22, 2023

پشاور ہائی کورٹ: چترال یونیورسٹی میں سلیکشن بورڈ اور انٹرویوز روک کر وائس چانسلر کو توہین عدالت کا نوٹس

پشاور ہائیکورٹ نے جامعہ چترال کے سیلیکشن بورڈ، انٹرویوز اور سیلیکشن پراسس کو حکمِ امتناعی جاری کرکے روک دیا ہے۔
پشاور ہائی کورٹ کے ڈویژن بنچ نے جامعہ چترال کے سیلیکشن بورڈ، انٹرویوز جو آج ہونے تھے اور جملہ سیلیکشن پراسس کے خلاف، اِسٹے آرڈر جاری کرتے ہوئے جامعہ چترال کے وائس چانسلر اور رجسٹرار کو توہینِ عدالت کا نوٹس جاری کر دیا ہے۔

خیال رہے شہید بینظیر بھٹو یونیورسٹی چترال کیمپس کے فیکلٹی ممبران کے سروس کیس میں ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے پانچ فیصلوں کی روشنی میں شہید بینظیر بھٹو یونیورسٹی شرینگل کی سنڈیکیٹ نے دو سال پہلے اُن کے سروس ریگولر کرکے جامعہ چترال کو ٹرانسفر کیا تھا۔ مگر جامعہ چترال کی انتظامیہ بلاوجہ اُن کے بحیثیت ریگولر ملازمین ان کے قانونی حقوق دینے میں گزشتہ دو سال سے تاخیر کر رہی تھی۔

جس کی وجہ سے مذکورہ فیکلٹی ممبران نے ریگولر سروس کے جملہ قانونی حقوق مانگ کر پچھلے سال دوبارہ ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ ان کی پٹیشن پر ہائی کورٹ نے رواں سال 20 جون کو اُن کے حق میں فیصلہ صادر کیا تھا۔ عدالت عالیہ نے جامعہ چترال کو ہدایت کی تھی کہ مذکورہ فیکلٹی ممبران کی جو سروس ریگولرائزیشن ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلوں کی روشنی میں ہوئی ہے اُسی کو دو مہینے کے اندر انڈورس کرے اور اُن کو حقوق دے۔

جامعہ چترال نے اُسی فیصلے پر عمل کرنے کے بجائے مذکورہ فیکلٹی ممبران کو 13 سال بعد از سرِ نو سیلیکشن بورڈ انٹرویوز کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ نہ صرف یہ، بلکہ جامعہ چترال نے اُن سب امیدواروں کو بھی دوبارہ سیلیکشن بورڈ انٹرویوز میں بُلانے کا فیصلہ کیا تھا جو 2011، 2012 اور 2013 کو سیلیکشن بورڈ انٹرویوز کوالیفائی نہیں کر پائے تھے، اور مذکورہ بالا فیکلٹی ممبران سیلیکشن بورڈ انٹرویوز سمیت ریگولر اپائنمنٹ کے جملہ قانونی پراسس کو کوالیفائی کرکے اُس وقت کے چترال کیمپس میں بحیثیت لیکچرر تعینات ہوئے تھے۔

اِن سب کے باوجود شہید بینظیر بھٹو یونیورسٹی نے اُن کو کنٹریکٹ کا آرڈر جاری کیا تھا اور تین سال تک اُن کو کنٹریکٹ میں ٹرخاتے رہے، جس پر وہ سال 2013 ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ خیبرپختونخوا، گورنر خیبرپختونخوا، پشاور ہائیکورٹ اور پھر سپریم کورٹ تک گیے تھے۔ یاد رہے اِن سارے فورمز میں مذکورہ بالا فیکلٹی ممبران کے حق میں فیصلے اور حکم نامے جاری ہوئے تھے۔

آخری بار 2021 میں جب سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی اُن کے حق میں آیا تو شہید بینظیر بھٹو یونیورسٹی شرینگل کی سنڈیکیٹ نے اکتوبر 2021 کو سپریم کورٹ کے فیصلے اور یونیورسٹیوں کے مجاز قوانین کے مطابق اُن کے سروس ریگولر کرکے چترال یونیورسٹی کو ٹرانسفر کر دیے۔ دو سال سے جامعہ چترال میں یہ معاملہ بلاوجہ تاخیر کا شکار تھا۔

یاد رہے مذکورہ بالا عدالتی فیصلے کو نہ ماننے اور غیرقانونی طور پر سیلیکشن بورڈ انٹرویوز دوبارہ کرانے کے معاملے میں ہائیکورٹ نے نہ صرف سیلیکشن بورڈ انٹرویوز (جو آج ہو رہے تھے) کے خلاف حکمِ امتناعی جاری کی ہے اور جملہ سلیکیشن پراسس کو روکنے کا حکم دیا ہے، بلکہ جامعہ چترال کے وائس چانسلر اور رجسٹرار کے خلاف توہینِ عدالت کا نوٹس بھی جاری کر دیا ہے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے