پاکستان

تفتیش میں تعاون، سائفر اور توڑ پھوڑ کے مقدمات میں اسد عمر کی ضمانت

اگست 22, 2023

تفتیش میں تعاون، سائفر اور توڑ پھوڑ کے مقدمات میں اسد عمر کی ضمانت

آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت دائر مقدمات کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت نے سابق وفاقی وزیر اسد عمر کی عبوری ضمانت منظور کرتے ہوئے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی کو گرفتاری سے روک دیا ہے۔

منگل کو جج ابوالاحسنات ذوالقرنین نے سائفر کیس کی سماعت کی۔

اسد عمر اپنے وکلا بابر اعوان اور سردار مصروف کے ہمراہ عدالت پیش ہوئے اور درخواست ضمانت قبل از گرفتاری دائر کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ کیس سیاسی بنیادوں پر بنایا گیا۔

وکلا نے کہا کہ اسدعمر کو ہراساں اور بلیک میل کرنے کی غرض سے سائفر کا کیس بنایا گیا۔ مقدمے میں دفعات غلط ہیں۔

درخواست میں استدعا کی گئی کہ اسد عمر شامل تفتیش ہونے کو تیار ہیں، ضمانت منظور کی جائے۔

عدالت نے ایک لاکھ روپے مالیتی مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کرتے ہوئے سماعت29 اگست تک کے لیے ملتوی کر دی۔

دوسری جانب انسدادِدہشتگردی عدالت کے جج ابوالاحسنات ذوالقرنین کی عدالت نے احتجاج، ہنگامہ آرائی اور توڑپھوڑ کیس میں سابق وفاقی وزیر اسدعمر کی عبوری ضمانت میں توسیع کی۔

منگل کو ہی تھانہ سنگجانی میں دہشتگردی دفعات کے تحت درج مقدمہ کی سماعت کےدوران اسدعمر اپنے وکیل بابراعوان کے ساتھ عدالت پیش ہوئے۔

عدالت نے عبوری ضمانت میں توسیع کرتے ہوئے سماعت12اکتوبر تک کے لیے ملتوی کی۔

سابق وفاقی وزیر اسدعمر نے جوڈیشل کمپلیکس میں میڈیا سے گفتگو کے دوران سائفر کیس میں گرفتاری کی خبروں کی تردیدکرتے ہوئے کہا کہ گرفتاری کی غلط خبر تھی، مجھے ایف آئی اے نے گرفتار نہیں کیا تھا۔ دو بار سائفر کے معاملے پر شامل تفتیش ہو چکا ہوں۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے