پرویز الہیٰ اگر ایک منٹ کی پریس کانفرنس کر دیں، عدالت میں کیا ہوا؟
پنجاب اسمبلی میں بھرتیوں کے مقدمے میں سابق وزیراعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی کو دو روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے کے عدالت پیش کیا گیا۔
لاہور کی ضلع کچہری میں پرویز الہی کو سخت سکیورٹی میں عدالت میں لایا گیا
ڈیوٹی جوڈیشل مجسٹریٹ عامر رضا بیٹو نے سماعت کی۔ اینٹی کرپشن نے پرویز الہیٰ کا مزید دس روزہ جسمانی ریمانڈ مانگا۔
محکمہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پرویز الہی کے دورے اقتدار میں پنجاب اسمبلی میں بھرتیاں کی گئیں۔ کم نمبروں والے امیداروں کو میرٹ کی خلاف وزری کرتے ہوئے بھرتی کیا گیا۔
وکیل اینٹی کرپشن کے مطابق اس معاملے کی باقاعدہ انکوئری ہوئی اس کے بعد مقدمہ درج کیا گیا۔
وکیل کے مطابق پرویز الہی کا موبائل فون ابھی تک برآمد نہیں ہوا، پرویز الہی سے تفتیشی افسر نے موبائل فون ریکور کروانا ہے۔
وکیل اینٹی کرپشن نے کہا کہ پرویز الہی کے موبائل فون کا فرانزک کروانا ہے۔41 لاکھ روپے ریکور ہوا اس کا معلوم کرنا ہے کتنے پیسے شریک ملزمان کو دیے گئے۔ پرویز الہی کے دو گھر ہیں ایک لاہور اور دوسرا گجرات میں ہے۔
جج نے وکیل سے پوچھا کہ دو دنوں میں آپ نے تفتیش میں کیا پیش رفت کی؟
وکیل نے بتایا کہ گجرات لے کر جانا تھا ہر چیز ریڈی تھی چوہدری پرویز الہی کی طبعیت خراب ہو گئی۔ پھر پرویز الہی کو ڈاکٹر کے پاس لے کر گئے۔ اب گجرات پرویز الہی کے گھر جانا ہے۔
دوران سماعت پرویز الہی روسٹرم پر آئے اور کہا کہ وہ قرآن پر حلف دینے کو تیار اٹھانے کو تیار ہیں کہ تفتیشی ان کو کہیں بھی لے کر نہیں گئے۔
پرویز الہیٰ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ انہوں نے کبھی قرآن پر حلف نہیں اٹھایا، میری عمر 77 سال ہے مجھے تین دل کے سٹینٹ پڑے ہیں، چلنے میں مجھے دشواری ہے۔
پرویز الہی نے بتایا کہ ان کو اُن کو لاکھوں روپے ریکوری کا بھی کمرہ عدالت میں آکر پتہ چلا۔
پرویز الہی کے وکیل نے جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کی اور کہا کہ پرویز الہی کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔
وکیل نے کہا کہ اگر پرویز الہی ایک منٹ کی پریس کانفرنس کردے تو سب ٹھیک ہو جانا ہے۔
ڈیوٹی جوڈیشل مجسٹریٹ عامر رضا بیٹو نے وکلاء کے دلائل کے بعد پرویز الہی کو دو روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا
چوہدری پرویز الٰہی نے میڈیا کے نمائندوں سے کمرہ عدالت میں غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے نگراں حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
نگران حکومت کس حیثیت سے بجٹ منظور کرسکتی ہے، کیا چیف الیکشن کمشنر نے نگراں حکومت کو بجٹ منظور کرنے سے روکا نہیں۔
پرویز الہی نے کہا کہ کب سے سن رہے ہیں الیکشن ہوں گے، چیف الیکشن کمشنر صاحب اب تو الیکشن کی تاریخ دے دو، چیف الیکشن کمشنر عام انتخابات کی تاریخ کو دبا کر بیٹھے ہیں۔

