لاہور میں خاور مانیکا کی ضمانت، اسلام آباد میں بشریٰ بی بی سے نیب کے 10 سوال
لاہور ہائیکورٹ نے خاور فرید مانیکا کو کرپشن کے ایک مقدمے میں ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔
پیر کو جسٹس علی باقر نجفی نے خاور مانیکا کی بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواست کی سماعت کی۔
محکمہ اوقاف ک زمین پر قبضے کے مقدمے میں سرکاری وکیل نے عدالت میں استدعا کی تفتیش میں ملزم کو گناہگار قرار دیا گیا ہے اس لیے ضمانت منظور نہ کی جائے۔
عدالت نے ہدایت کی کہ ٹرائل کورٹ میں چالان جمع کر کے کیس کو آگے بڑھا جائے اور ملزم کی ضمانت ایک لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کی جاتی ہے۔
دوسری جانب قومی احتساب بیورو (نیب) نے اسلام آباد میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی کے 190 ملین پاؤنڈ اور القادر ٹرسٹ کیس کی تحقیقات کرتے ہوئے سابق خاتون اول بشریٰ بی بی کو دس سوالات تھمائے ہیں جن کا جواب مطلوب ہے۔
نیب راولپنڈی کے ذرائع نے صحافیوں کو بتایا کہ دس سے زائد سوالوں پر مشتمل سوالنامہ بشریٰ بی بی کو دیا گیا۔
سوالنامے میں پوچھا گیا ہے کہ بحریہ ٹاؤن کے ملک ریاض سے 458 کنال زمین تحفے میں کیوں ملی؟ بحریہ ٹاؤن نے القادر ٹرسٹ کے اکاؤنٹ میں 18 کروڑ روپے کیوں منتقل کیے؟
اسی طرح پوچھا گیا ہے کہ بحریہ ٹاؤن سے ملنے والے اٹھارہ کروڑ روپے میں آٹھ کروڑ کہاں غائب ہیں؟ ریکارڈ میں صرف دس کروڑ روپے کیوں ظاہر کیے گئے؟
سوالنامے کے مطابق کیا بحریہ ٹاؤن سے ہیرے کا ہار اور دیگر تحائف 190 ملین پاؤنڈز کا فائدہ دینے کے بدلے حاصل کیے گئے؟
بشریٰ بی بی سے نیب کے سوالنامے میں پوچھا گیا ہے کہ کیا آپ نے بحریہ ٹاؤن کے مالک سے دیگر فوائد لیے؟
عمران خان کی اہلیہ سے نیب کے دفتر میں دو گھنٹے سے زائد وقت پوچھ گچھ کی گئی۔ اس موقع پر ان کے وکیل ہمراہ تھے۔
بشریٰ بی بی نیب کی تفتیش کے بعد لاہور چلی گئیں۔

