صدارتی دفتر سیاسی عہدہ نہیں، صدر علوی کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر
پاکستان کے صدر عارف علوی کو کام سے روکنے اور عہدے سے ہٹانے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی ہے۔
سنیچر کو صدر علوی کے خلاف درخواست آئین کے آرٹیکل 184 کی شق 3 کے تحت غلام مرتضیٰ نامی شہری نے دائر کی۔
درخوست گزار نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ صدر عارف علوی نے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا۔ اور صدارت کے عہدے کی تضحیک کی۔
درخواست کے مطابق صدر پوری قوم کا ہوتا ہے نہ کہ صرف ایک سیاسی جماعت کا۔
عارف علوی نے اپنے صدراتی دفتر کو تحریک انصاف کی سیاسی سرگرمیوں کے لیے وقف کر رکھا ہے۔
درخواست گزار نے کہا کہ عارف علوی صدر کے عہدے کا غلط استعمال کرتے ہوئے غیر آئینی اقدام کے بھی مرتکب ہوئے اور اپنی آئینی ذمہ داری سے بھی پہلو تہی برتی ہے۔
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ عام انتخابات کی تاریخ دینا صدر کا کام تھا لیکن انہوں نے تاریخ نہیں دی۔
درخواست گزار کے مطابق صدر اس سے قبل غیر قانونی طور پر اسمبلی کی تحلیل کے بھی مرتکب ہوئے اور آئین کے آرٹیکل 5 کے تحت آئین پر عملداری کو یقینی نہیں بنایا۔
درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عارف علوی کو بطور صدر کام کرنے سے روکا جائے۔ اور آئین و قانون کی خلاف ورزی کرنے پر کارروائی عمل میں لائی جائے۔
صدر اور وزارت قانون کو درخواست میں فریق بنایا گیا ہے۔

