پاکستان

جنرل ریٹائرڈ باجوہ اور فیض حمید کے خلاف مقررہ سماعت منسوخ: اسلام آباد ہائیکورٹ

نومبر 26, 2023

جنرل ریٹائرڈ باجوہ اور فیض حمید کے خلاف مقررہ سماعت منسوخ: اسلام آباد ہائیکورٹ

اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ قمر جاوید باجوہ اور سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کے خلاف ایف آئی اے میں مقدمے کے اندراج کی درخواست 28 نومبر کی کاز لسٹ سے منسوخ کر دی ہے۔

ہائیکورٹ نے 4 اکتوبر کو نوٹسز جاری کیے تھے جو 6 اکتوبر کو متعلقہ ایڈریسز پر ارسال کرتے ہوئے 28 نومبر کی سماعت سے 3 دن قبل جواب جمع کرانے کی ہدایت کی گئی تھی۔

راولپنڈی کے رہائشی عاطف علی کی درخواست پر چیف جسٹس عامر فاروق نے سماعت کرنا تھی۔

ریٹائرمنٹ کے بعد قانونی رکاوٹ توڑنے اور مختلف ایونٹس کو غلط اور من گھڑت طریقے سے بیان کرنے کے الزام پر مقدمے کے اندراج کی درخواست پر عدالت نے ایف آئی اے، جنرل باجوہ، جنرل فیض حمید، صحافی جاوید چوھدری، شاہد میتلا، پیمرا اور پریس ایسوسی ایشن آف پاکستان کو نوٹس جاری کر رکھے ہیں۔

درخواست گزار کے مطابق ایف آئی اے کو مقدمے کے درج کی درخواست کے بعد بار بار استدعا کی جبکہ پیمرا کو بھی پابندی کی درخواست کی لیکن کوئی ایکشن نہیں ہوا۔

درخواست گزار نے استدعا کی ہے کہ ایف آئی اے کو حکم دیا جائے کہ جنرل باجوہ، جنرل فیض حمید، صحافی جاوید چوھدری اور شاہد میتلا کے خلاف مقدمہ درج کر کے کارروائی کرے۔

راولپنڈی کے رہائشی شہری نے اپنی درخواست میں لکھا ہے کہ ’غلط اور من گھڑت طریقے سے مختلف ایونٹس کو ظاہر کر کے جنرل باجوہ اور جنرل فیض نے ریٹائرمنٹ کے بعد موجود قانونی و اخلاقی رکاوٹ عبور کی اس پر وہ سنگین جرم کے مرتکب ٹھہرے ہیں۔‘

درخواست میں کہا گیا ہے کہ مجرمانہ فعل سابق آرمی چیف جنرل باجوہ اور فیض حمید کی ملی بھگت سے ہوا، ایف آئی اے مقدمہ درج کرکے سخت ایکشن لے۔

جاوید چوھدری اور شاہد میتلا کی سابق آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ قمر جاوید باجوہ سے ملاقاتوں کے تناظر میں مضامین کو درخواست کا حصہ بناتے ہوئے عاطف علی نے لکھا کہ دونوں صحافیوں نے صرف ویورشپ کے لیے آرٹیکلز لکھے جس کا معاشرے پر منفی اثر ہوا۔

درخواست گزار کے مطابق ان مضامین سے ریاستی ادارے (فوج) کی منفی و تصویر پیش کی گئی اور ان واقعات کے تناظر میں جاری مہم عوام اور ریاستی اداروں کے درمیان عدم اعتماد پیدا کرنے کی کوشش ہے۔

عاطف علی کے درخواست میں کہا گیا ہے کہ آزادی اظہار رائے کی آڑ میں مجرمانہ رویہ سامنے آیا اس لیے مقدمے کے اندراج کی درخواست دی لیکن ایف آئی اے نے مقدمہ درج نہیں کیا۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے