سائفر کیس کی سماعت میڈیا کے بغیر ہوگی: خصوصی عدالت
آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت قائم خصوصی عدالت نے سائفر کیس کی کارروائی ان کیمرہ کرنے کی درخواست منظور کر لی ہے۔
درخواست پراسیکیوشن نے سیکشن 14 اے کے تحت دائر کی تھی.
جمعرات کو اڈیالہ جیل میں سماعت کے بعد جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ سائفر کیس کی آئندہ سماعت ان کیمرہ ہوگی۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فیملی ممبران کو دوران سماعت کمرہ عدالت میں رسائی دی جائے گی۔
پراسیکیوشن کی درخواست پر فیصلے کے بعد عدالت نے سائفر کیس کی سماعت جمعے تک ملتوی کر دی ہے۔
شاہ محمود قریشی کے وکیل تیمور ملک کی میڈیا سےگفتگو کے نکات:
چارج ہمیں پڑھ کر سنایا گیا، انہیں بلکل عدالت نے دستحط اور انگوٹھا لگانے کا نہیں کیا. پراسیکیوٹر کی درخواست تھی کہ سائفر کیس کو ان کیمرہ کریں.
ہم نے عدالت سے استفسار کیا کہ پراسیکیوشن کو کیسے پتا چلا کہ چارج فریم ہوچکا ہے.
ہمارے مکمل دلائل ہوچکے ہیں، وہی چالان ہے جس کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے مسترد کیا.
آج سماعت پر کوئی فیصلہ نہیں ہوا، دو انتہائی اہم شخصیات اس وقت جیل میں ہیں. عدالت کو چاہئیے کہ ہمارا احترام کریں.
اگر یہ اوپن ٹرائل ہوتا، اب یہ بات مبہم ہوچکی ہے. بڑا ضروری ہے کہ ان کیمرہ ٹرائل نہیں ہوسکتا. انصاف کے تمام تقاضے پورے ہونے چاہییں.ہم ابھی امید رکھتے ہیں کہ عدالتوں سے انصاف ملے گا
ہم نے کل کی عدالت کا فیصلہ آج دیکھا ہے. کل ہماری بحث تھی کہ دستاویزات ہمیں مکمل نہیں ملی
ہمارے اعتراض پر سات یوم بھی نہیں دئیے گئے. ہم چارج فریم ہونے کی کاروائی کو چیلنج کرنے کا سوچ سکتے ہیں.
وکیل عمیر نیازی نے میڈیا سے گفتگومیں کہا کہ عمران خان نے یہ پیغام دیا ہے:
افغان باشندوں کو ایک قلم کی جنبش سے واپس بھیجا جا رہا ہے.
ہم انسانی حقوق کی خلاف ورزی کررہے ہیں.
ہم کشیدگی کی طرف جارہے ہیں،نواز شریف کے ہندوستان کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے بیان کی بانی چئیرمین نے سختی سے تردید کردی ہے. ہم کشمیر کی قربانی نہیں دے سکتے، ہماری حکومت جانے پر سب سے زیادہ خوشیاں اسرائیل اور انڈیا میں منائی گی.

