الیکشن شیڈول جاری کرنے کا حکم، جسٹس نجفی پر تحفظات کا اظہار
سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ کا ریٹرننگ افسران سے متعلق فیصلہ معطل کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو فوری انتخابی شیڈول جاری کرنے کا حکم دیا ہے۔
جمعے کو الیکشن کمیشن نے لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے بیوروکریسی کے ذریعے عام انتخابات کرانے کا نوٹی فیکیشن معطل کرنے کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔
سپریم کورٹ نے لاہورہائیکورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی کے کنڈکٹپر تحفظاتکا بھی اظہار کیا.
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جمعےکی شام کو ہی الیکشن کمیشن کی درخواست پر تین رکنی بینچ تشکیل دے کر کیس کی سماعت شروع کی تھی۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ میں جسٹس سردار طارق مسعود اور جسٹس منصور علی شاہ شامل تھے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ریٹرننگ افسران تو ہائی کورٹ کی مشاورت سے تعینات ہوتے ہیں۔
جواب میں وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ہم نے تمام ہائی کورٹس کو خطوط لکھے تھے مگر افسران فراہم نہیں کیے گئے، ہائی کورٹس کی جانب سے افسران کی عدم فراہمی پر دیگر اداروں سے افسران لیے۔
سجیل سواتی نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے عدلیہ کو فروری میں جوڈیشل افسران کے لیے خط لکھا تھا۔ عدلیہ نے زیرالتوا مقدمات کے باعث جوڈیشل افسران دینے سے معذوری ظاہر کی تھی۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ ہائی کورٹ اپنی ہی عدالت کے خلاف رٹ کیسے جاری کر سکتی ہے؟ پاکستان تحریک انصاف کی درخواست پر ہی سپریم کورٹ نے انتخابات کا فیصلہ دیا تھا۔

