بلوچ لانگ مارچ اسلام آباد کے دروازے پر، پولیس تعینات
بلوچستان کے شہر تربت میں مبینہ جبری گمشدگی کے بعد مقابلے میں مارے جانے والے بالاچ بلوچ کے اہل خانہ دیگر لاپتہ افراد کے لواحقین کے ہمراہ احتجاجی مارچ کرتے راولپنڈی پہنچے ہیں۔
بدھ کی رات راولپنڈی سے اسلام آباد میں داخل ہونے پر لانگ مارچ کے شرکا کو روکا گیا ہے۔
اس سے پہلے کوئٹہ میں بھی احتجاج کرنے سے لاپتا افراد کے ورثا کو روکا گیا تھا جبکہ بلوچستان سے پنجاب میں داخل ہوتے وقت بھی پولیس نے رکاوٹیں کھڑی کی تھیں۔
لانگ مارچ کے شرکا کا کہنا ہے کہ وہ سپریم کورٹ جانا چاہتے ہیں مگر انہیں 26 نمبر چنگی پر روک لیا گیا ہے۔
بعض شرکا نے کہا کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اس کا نوٹس لیں۔
ایکٹیوسٹ سمی دین بلوچ نے پولیس اہلکاروں کی ویڈیو ٹویٹ کر کے کہا کہ اسلام آباد کی فضا سے لگ رہا ہے کہ یہ ہمارے خلاف طاقت کا استعمال کرنے والے ہیں اور اگر ایسا ہوا تو یقین کریں دوبارہ اسلام آباد کی طرف نہیں دیکھیں گے جہاں نہتے بوڑھی ماؤں اور بزرگوں کے خلاف یہ ریاست تشدد کا راستہ اپنانا چاہتی ہے۔
ادھر اسلام آباد پولیس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امن احتجاج سب کا بنیادی حق ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق اسلام آباد میں رکاوٹیں کھڑی کرنا، عوامی راستے مسدود کرنا اور امن عامہ میں خلل ڈالنا جرم ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
پولیس ترجمان نے کہا ہے کہ عوامی آمدورفت کے رستوں میں رکاوٹ مت ڈالیں اور پولیس کے ساتھ تعاون کریں۔

