پاکستان

بلوچ مارچ پر تشدد و گرفتاریاں، اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر و پولیس سربراہ طلب

دسمبر 21, 2023

بلوچ مارچ پر تشدد و گرفتاریاں، اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر و پولیس سربراہ طلب

انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اسلام آباد میں بلوچ لانگ مارچ کے شرکا کے خلاف طاقت کے استعمال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

جمعرات کو ایک بیان میں تنظیم نے کہا ہے کہ ایمنسٹی نے مظاہرین کے خلاف واٹر کینن، آنسو گیس اور لاٹھی چارج کی ویڈیوز کا جائزہ لیا ہے۔

دوسری جانب جبری گمشدگیوں کے خلاف بلوچ لانگ مارچ کے شرکا کی گرفتاریوں پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈپٹی کمشنر و پولیس سربراہ کو طلب کیا ہے.

جمعرات کو لانگ مارچ کے منتظمین نے گرفتاریوں کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا۔

لانگ مارچ منتظمین کی جانب سے سمی دین بلوچ اور عبدالسلام نے وکیل ایمان مزاری کے ذریعے درخواست دائر کی۔

لانگ مارچ کے شرکا نے آج ہی اسلام آباد ہائیکورٹ سے درخواست پر سماعت کی استدعا کی ہے۔

سیکرٹری داخلہ، آئی جی اسلام آباد ، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد درخواست میں فریق تھانہ ترنول ، رمنا، شالیمار ، سیکریٹریٹ، ویمن تھانہ، مارگلہ کے ایس ایچ اوز کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست کے ساتھ مرد و خواتین، یونیورسٹی طلبہ سمیت 68 گرفتار مظاہرین کے ناموں کی ایک فہرست بھی شامل کی گئی ہے۔

عدالت کو بتایا گیا ہے کہچھ دسمبر تربت سے اسلام آباد کے لیے لانگ مارچ شروع کیا گیا۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ بلوچ جبری لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ میں پہلے سے بھی درخواستیں زیر التوا ہیں۔

درخواست کے مطابق بدھ کی رات 86 کے لگ بھگ لانگ مارچ کے شرکا کو گرفتار کیا گیا۔
درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ تمام احتجاجی مظاہرین کو فوری رہا کرنے کا حکم دیا جائے۔

درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ لانگ مارچ کے شرکا کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات طلب کی جائیں، مارچ کے شرکا کو ہراساں کرنے روکا جائے، احتجاج کے آئینی حق سے روکنے کے حکم کو غیر قانونی قرار دیا جائے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے