سائفر کیس، گواہوں پر جرح نہ کیے جانے کی وجہ کیا؟
سائفر کیس کی اڈیالہ جیل میں سماعت کے بعد ایف ائی اے پراسیکیوٹر ذوالفقار عباس نقوی اور شاہ خاور نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ وکلاء صفائی نے گواہان پرجرح کرنا تھی لیکن انھوں نے 6درخواستں دائر کیں۔
منگل کو سماعت کے اختتام پر انہوں نے بتایا کہ کچھ گواہان کو وکلاء صفائی دوبارہ ریکارڈ کرنا چاہتے تھے لیکن قانون واضح ہے۔ ایک درخواست سردیوں کی چھٹیوں کے حوالے سے تھی۔
انہوں نے بتایا کہ ایک درخواست وکیل کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کے باعث ملتوی کرنے کی تھی۔ میڈیا پرملزمان اور وکلاء صفائی نے اعتراض کیا ہے۔
شاہ خاور نے کہا کہ یہ قانون ہے ضمانت پر رہا ملزم شواہد کو تبدیل کرنے کی کوشش کرے، ٹرائل میں رخنہ ڈالے تو ایسی صورت میں استغاثہ کو حق حاصل ہے کہ وہ ضمانت کی منسوخی دائر کرے۔
ان کے مطابق وکلاء صفائی کو عدالت کا آرڈر پڑھایا گیا جس میں حساس معاملہ کے حوالے سے پبلک اور میڈیا کو باہر بھیجا جا سکتا ہے. ہائیکورٹ نے ملزمان کی ضمانت خارج کی، سپریم کورٹ کے جسٹس کے اضافی نوٹ کو بھی پڑھا گیا۔
پراسیکیوٹر نے کہا کہ اضافی نوٹ ہمارے سر انکھوں پر ہے، اضافی نوٹ سیاست کو بہت زیادہ ڈسکس کیا گیا ہے۔اضافی نوٹ میں لکھا گیا کہ ملزم قتل ڈکیتی جیسے جرائم میں ملوث نہ ہو تو اسے ضمانت دے دینی چاہیے۔
ذوالفقار عباس نقوی نے بتایا کہ اب تک 40متفرق درخواستیں دائر کی جا چکی ہیں۔وکلا صفائی چاہتے ہیں ٹرائل کو روکا جائے۔
پراسیکیوٹر نے کہا کہ وہ مختلف بہانوں سے سماعت کو ملتوی کراتے ہیں۔ ان کا مقصد ٹرائل کو ڈیلے کرنا ہے، سپریم کورٹ کا حکم موجود ہے۔ اگر وہ روکنے کی کوشش کریں گے تو ہم ضمانت کی منسوخی کی درخواست کریں گے۔
پراسیکیوٹر کے مطابق عدالت نے دوبارہ کہا ہے کہ وکلا صفائی اپنی حاضری یقینی بنائیں تاکہ جرح ہو سکے۔ سپریم کورٹ کا اضافی آرڈر، آرڈر آف دی کورٹ نہیں ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ کم سزا کو مدنظر رکھ کر ملزمان کو ضمانت دی گئی۔ اگر وکیل نہیں آتا اور مقدمہ التواء کا شکار ہوتا ہے تو سرکاری وکیل کے ذریعے کیس اگے بڑھایا جا سکتا ہے۔
سائفر کیس کی سماعت کے دوران استغاثہ کے کسی گواہ کے بیان پر جرح نہ کی جا سکی۔
وکلاء صفائی کی جانب سے دائر 6 متفرق درخواستیں عدالت نے نمٹا دیں۔
راولپنڈی درخواستیں تصدیق شدہ دستاویزات کی نقول اور عدالتی چھٹیوں کے حوالے سے دائر کی گئی تھیں۔
درخواستیں استغاثہ کے 21 گواہان کے دوبارہ بیان ریکارڈ کرنے اور سماعت ملتوی کرنے کے حوالے سے دائر کی گئی تھیں۔
وکلاء صفائی اور ملزمان کی جانب سے میڈیا موجودگی پر اعتراض عدالت نے مسترد کر دیا۔
جج ابوالحسنات نے پوچھا کہ کیا آپ میڈیا کو ٹرائل کی کوریج سے روکنا چاہتے ہیں۔
جج نے وکلاء صفائی سے کہا کہ میڈیا کی عدالت میں موجودگی، عدالتی اختیار اور استغاثہ کی صوابدید ہے۔
جج ابو الحسنات نے کہا کہ جہاں عدالت مناسب سمجھے گی، معاملہ حساس ہے، سماعت کو ان کیمرا کر سکتے ہیں۔

