ضمانت پر رہائی نہ ہو سکی، شاہ محمود قریشی نظربند
پاکستان میں تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کو راولپنڈی کے ڈپٹی کمشنر کے احکامات پر نظر بند کر دیا گیا ہے۔
منگل کو راولپنڈی کے ڈپٹی کمشنر نے سابق وزیر خارجہ کو 15 دنوں کے لیے نظر بند کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔
شاہ محمود قریشی سائفر کیس میں ٹرائل کے دوران اڈیالہ جیل میں زیرحراست ہیں تاہم سپریم کورٹ نے تین دن قبل اُن کو ضمانت پر رہا کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔
اُن کے ساتھ سابق وزیراعظم عمران خان کو بھی سائفر کیس میں ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔
منگل کو اڈیالہ جیل کے باہر سابق وزیر خارجہ کی بیٹی مہربانو قریشی نے ہم نے سائفر کیس میں شاہ محمود کی ضمانت کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔
سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے سائفر کیس کے متعلق کیا ریمارکس دیئے سب کو پتہ چل گیا۔
سوال یہ ہے شاہ محمود قریشی اور بانی پی ٹی آئی کا کیا قصور ہے۔
انکا قصور یہ ہے انہوں نے عوام کو بتایا ایک منتخب حکومت کو سازش کے زریعے گھر بیجھا گیا۔
کیا عمران خان نے ملکی دفاع کرکے کوئی جرم کیا ہے۔
شاہ محمود قریشی اور بانی پی ٹی آئی جیل میں ساری سختیاں برداشت کررہے ہیں۔
قبل ازیں شاہ محمود قریشی کے وکیل بیرسٹر تیمور کی میڈیا سے گفتگو میں کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے شاہ محمود قریشی کی ضمانت منظور کی۔
سپریم کورٹ کے آرڈر کی مصدقہ کاپی موصول ہوچکی۔
دو دن شاہ محمود قریشی نے ناحق جیل میں گزارے۔
ہم نے عدالت کو مچلکے بھی پیش کیے ہیں۔
ہم نے عدالت سے کہا شاہ محمود قریشی کی روبکار جاری کریں۔
عدالت نے اس کے بعد کل تک سائفر کیس کی سماعت ملتوی کر دی۔
اب ہمیں پتہ چلا کہ جج صاحب اسلام آباد چلے گئے ہیں۔
ہمیں کہا جارہا ہے اسلام آباد آجائیں وہاں سے روبکار کی جائے گی۔
اب ہم اسلام آباد جارہے ہیں دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔
آج اگر روبکار جاری نہ ہوئی تو سپریم کورٹ سے دوبارہ رجوع کریں گے۔

