توشہ خانہ کیس میں سزا، عمران خان کی اپیل کیوں مقرر نہ کی جا سکی؟
سپریم کورٹ نے عمران خان کی توشہ خانہ کیس میں سزا معطلی کی درخواست فوری مقرر کرنے سے معذرت کر لی ہے۔
سپریم کورٹ نے عمران خان کی سزا معطلی اپیل کو چھٹیوں میں مقرر کرنے کی استدعا ججز کی عدم دستیابی کی وجہ سے مسترد کی۔
بدھ کو معمول کے مقدمات کی سماعت کے دوران وکیل شہباز کھوسہ نے عدالتی روسٹرم پر آ کر کہا کہ استدعا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کا کیس 30 دسمبر سے پہلے مقرر کیا جائے۔
قائمقام چیف جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ چھٹیوں میں تین رکنی بینچ دستیاب نہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ چھٹیوں کے بعد تین رکنی بینچ اس کیس کو سنے گا۔
قائمقام چیف جسٹس نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے فیصلہ سنایا ہے ۔
جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ اگر عمران خان کی درخواست مقرر بھی ہوجائے تو فائدہ نہیں ہو گا۔
جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کردیا جائے تو بھی فائدہ نہیں ہوگا، توشہ خانہ میں سزا کے خلاف اپیل زیر التوا ہے ۔
جسٹس اطہر من اللہ اپیل زیر التواء ہو تو سزا معطل ہونے کی مثال نہیں ملتی۔
جسٹس سردار طارق نے کہا کہ اس ہفتے ججز دستیاب نہیں۔ وکیل نے کہا کہ جو بھی دستیاب جج ہوں وہ ہی کیس کو سن لیں۔
جسٹس سردار طارق نے کہا کہ میں نے اس ہفتے چیمبر ورک کرنا تھا جسٹس اطہر من اللہ نے بھی اپنی چھٹی ختم کی۔
وکیل نے کہا کہ ساری قوم اس کیس کی منتظر ہے، ایک ہی دن میں ٹرائل کورٹ نے پانچ مرتبہ بلا کر سزا سنا دی۔
جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ ہم نے قانون دیکھنا ہے اپیل زیر التواء ہو تو سزا معطل نہیں ہوتی۔
جسٹس سردار طارق نے کہا کہ ابھی دو ججز اپیل خارج کرسکتے ہیں کہتے ہیں تو کر دیتے ہیں۔
وکیل نے کہا کہ مخدوم جاوید ہاشمی کے کیس میں سزا اور فیصلہ معطل کیا گیا۔
جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ کیس تین رکنی بینچ ہی سنے گا۔
جسٹس سردار طارق نے کہا کہ لیول پلیئنگ فیلڈ پر توہین عدالت والی درخواست ہوسکتا ہے کل مقرر ہو جائے۔

