عمران خان کی درخواست منظور، سائفر کیس کا ٹرائل 11 جنوری تک رُک گیا
اسلام آباد ہائی کورٹ نے گیارہ جنوری تک سائفر کیس کا ٹرائل روکنے کا حکم دیتے ہوئے وفاق اور ایف آئی اے کو نوٹس جاری کیے ہیں.
اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کے امیدواروں کو ٹکٹ تقسیم کے لیے جیل میں عمران خان سے مشاورت کی بیرسٹر گوہر کی درخواست پر اعتراضات ختم کر دیے۔
جمعرات کو جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے درخواست کی سماعت کی۔
تحریک انصاف کے وکیل شعیب شاہین نے عدالت میں بتایا کہ اُن کو ایک کاغذ کا ٹکڑا جیل میں لے جانے کی اجازت نہیں۔
جسٹس گل حسن اورنگزیب نے پوچھا کہ کون اُن سے کاغذ لے لیتا ہے؟
وکیل نے کہا کہ سابق چیئرمین پی ٹی آئی سے ٹکٹس پر مشاورت کرنی ہے۔
جسٹس گل حسن اورنگزیب نے وکیل سے کہ اُن کی استدعا واضح نہیں ہے۔
وکیل نے کہا کہ اُن کی استدعا ایک سطر کی ہے کہ جیل میں سابق چیئرمین پی ٹی آئی سے ملاقات کی کھلی اجازت دی جائے۔
عدالت نے استفسار کیا کہ درخواست گزار کی اس وقت کیا حیثیت ہے؟
وکیل شعیب شاہین نے جواب دیا کہ بیرسٹر گوہر چیئرمین کے طور پر بحال ہو چکے ہیں۔
شعیب شاہین ایڈووکیٹ کے مطابق الیکشن ٹکٹوں پر ان سے مشاورت کرنی ہے وہ ہمارے لیڈر ہیں۔
جسٹس گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ الیکشن کمیشن کہہ رہا ہے عمران خان کے پاس پارٹی میں کوئی عہدہ نہیں۔
وکیل نے بتایا کہ بس یہ بات لکھتے ہوئے ہماری درخواست مسترد کی، بیرسٹر گوہر بانی چیئرمین سے مشاورت کرنا چاہتے ہیں۔
عدالت نے درخواست پر اعتراضات دور کر کے نمبر لگانے کی ہدایت کی۔
جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے دفتر کو ہدایت کی کہ جلد درخواست سماعت کے لیے مقرر کی جائے۔
قبل ازیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے سائفر کیس ٹرائل میں فرد جرم عائد کیے جانے کے خلاف عمران خان کی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے جیل ٹرائل روکنے کی استدعا پر فیصلہ محفوظ کیا تھا.
جمعرات کو عدالت نے سائفر کیس کا ٹرائل روکنے کا فیصلہ کرتے ہوئے وفاقی حکومت اور ایف آئی اے کو نوٹس کیاتاکہ اُن کا جواب آ سکے۔
جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سائفر کیس کی سماعت کرنے والی عدالت کے 12 دسمبر کے آرڈر کے خلاف عمران خان کی درخواست پر ابتدائی سماعت کی۔
دلائل کے دوران عمران خان کے وکیل نے کہا کہ سیکشن 13 کی سب سیکشن 3 کے مطابق عدالتی کاروائی نہیں ہو رہی۔
انہوں نے 12 دسمبر کا خصوصی عدالت کا آرڈر پڑھتے ہوئے موقف اپنایا کہ قانون میں لفظ کمپلینٹ کا ذکر کیا گیا ایف آئی آرکا ذکر نہیں۔ جسٹس گل حسن اورنگزیب نے پوچھا کہ پوائنٹ کیا ہے، کون سا تقاضا پورا نہیں کیا گیا؟
اٹارنی جنرل منصور اعوان عدالت میں پیش ہوئے جبکہ عمران خان کی بہنیں بھی کمرہ عدالت میں موجود تھیں۔
وکیل نے بتایا کہ پراسکیوشن کے مطابق کابینہ کی منظوری کے بعد کیس فائل کیا گیا۔ ایف آئی آر ہمیشہ سکیشن 154 کے تحت ہوتی ہے، یہاں کمپلینٹ فائل ہی نہیں ہوئی بلکہ ایف آئی آر درج ہوئی۔
جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ نوٹیفکیشن تو سیکشن 13 (6) کے تقاضے پورے کرتا ہے، پہلے نوٹس جاری کریں گے اس کے بعد معاملے کو دیکھیں گے۔

