پاکستان

پھانسی کی سزا پر عمل درآمد معطل ہے: پاکستان

دسمبر 29, 2023

پھانسی کی سزا پر عمل درآمد معطل ہے: پاکستان

پاکستان میں اعلٰی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ ملک میں سزائے موت پر عملدرآمد غیررسمی طور پر معطل ہے۔

جمعے کو سیکریٹری وزارت انسانی حقوق نے پارلیمان کے ایوان بالا سینیٹ کی ایک کمیٹی کو بتایا کہ اے پی ایس حملے سے قبل ملک میں پھانسی کی سزا غیر رسمی طور پر معطل تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ اے پی ایس حملے کے بعد سزا موت پر عملدرآمد دوبارہ شروع ہوا اور اس وقت سزا موت پر عمل غیر رسمی طو ر پر معطل ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں سینیٹر ولید اقبال کی زیر صدارت ہوا۔

سینیٹر ولید اقبال نے کہا کہ لوگوں کو سر عام پھانسی دینے کا معاملہ پر ایک بل تھا، داخلہ کمیٹی نے بل منظور کیا تھا. مجھے بطور انسانی حقوق کمیٹی کے چئیرمین اس کے خلاف بہت کالز آئیں کہ آپ اس کا نوٹس لیں ، داخلہ کمیٹی نے اس بل کو انسانی حقوق کے تناظر میں نہیں دیکھا تھا.

سیکریٹری انسانی حقوق نے بتایا کہ سر عام پھانسی کے قومی اور بین القوامی اثرات ہیں. یہ حساس معاملہ ہے ، بین الاقوامی ڈونرز کا سزائے موت اور سرعام پھانسی کے حوالے سے سخت موقف ہے۔ اس وقت ہمارے قانون میں سرعام پھانسی کی اجازت ہے. 33 ایسی جگہیں ہیں جہاں ہمارے پر قوانین میں سزا موت ہے، ان قوانین میں دہشت گردی ، ریپ ، ہائی جیکنگ، آرمی میں مس کنڈکٹ اور توہین رسالت شامل ہے۔

امریکہ کی ریاستوں میں سزا موت ہے لیکن یورپ کے اکثر ممالک میں نہیں ہے. اقوام متحدہ اور یورپی یونین کہتی ہے ہے کہ سزا موت کو کم کیا جائے

سیکشن 22 انسداد دہشت گردی کے مطابق حکومت ، سزا موت کا طریقہ ، جگہ کا تعین کر سکتی ہے ، اس کا مطلب ہے کہیں بھی سزائے موت دی جا سکتی ہے، یعنی سر عام پھانسی انسداد دہشت گردی میں موجود ہے.

لاہور ہائی کورٹ نے سر عام پھانسی سے متعلق زینب ریپ کیس میں فیصلہ دیا کہ جابرانہ جرم کی سر عام پھانسی کی طرح کی جابرانہ سزا نہیں دی جا سکتی

پاکستان نے بین الاقوامی سات انسانی حقوق کنونشن پر دستخط کیے ہیں. دنیا کی توقع ہے کہ ہم سزا موت ختم کریں . یورپی یونین نے جی ایس پی اسٹیٹس نظر ثانی پر سزا موت معطل کرنے کہا .

وزارت انسانی حقوق کے سیکریٹری کا کہنا ہے کہ سرعام پھانسی پالستان کے بین الاقوامی مفاد میں نہیں ، اس سے پاکستان کا دنیا میں تشخص خراب ہو گا، ہمیں سر عام پھانسی نہیں دینی چاہیے.

ان کے مطابق سر عام پھانسی گلف ممالک میں ہوتی ہیں. لوگ منشیات پر سعودی عرب میں میں گرفتار ہوتے ہیں لیکن پھر بھی ڈرگ لیکر جاتے ہیں لیکن سرعام پھانسی وہاں روکنے کا کام نہیں کر رہی.

مشاہد حسین سید نے کہا کہ ضیا دور میں لاہور میں پپو کی سرعام پھانسی ہوئی تھی�.

انہوں نے پوچھا کہ پاکستان میں آخری سر عام پھانسی کب ہوئی؟

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے