اختر مینگل اور شاہ محمود کے علاوہ کِن بڑے رہنماؤں کے کاغذات نامزدگی مسترد کیے گئے؟
ملتان سے شاہ محمود قریشی کے ملتان کے کاغذات نامزدگی مسترد کیے گئے ہیں۔
صوبہ بلوچستان سے سردار اختر مینگل کے کاغذات نامزدگی اس بنیاد پر مسترد ہوئے کہ ان کے پاس دبئی کا اقامہ ہے۔
اس کے علاوہ این اے 262 کوئٹہ 1 سے پشتونخوا میپ کے نواب ایاز جوگیزئی، خوشحال کاکڑ، پی ٹی آئی کے عادل بازئی، سالار کاکڑ ، پی ٹی آئی کے ظہور آغا، بی این پی کے اورنگزیب جوگیزئی اور محمد یوسف خان کاکڑ کے کاغذات نامزدگی مسترد ہوئے۔
کوئٹہ این اے 264 سے میر خالد لانگو اور بلوچستان عوامی پارٹی کے سینیٹر پرنس آغا عمر احمد زئی کے کاغذات نامزدگی بھی مسترد کیے گئے ہیں۔
شاہ محمود قریشی کے کاغذات نامزدگی سندھ کے ضلع تھرپارکر سے بھی مسترد کیے گئے۔
اُن کی بیٹی مہربانو اور بیٹے زین قریشی کے کاغذات نامزدگی بھی مسترد کئے گئے ہیں۔
این اے 121 سے مسرت جمشید اور ان کے شوہر جمشید اقبال چیمہ کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیے گئے ۔
لاہور سے ڈاکٹر یاسمین راشد اور حماد اظہر کے کاغذات نامزدگی مسترد کیے گئے ہیں۔
این اے 82 سے پی ٹی آئی کے وکیل نعیم پنجوتھہ کے کاغذات نامزدگی مسترد کیے گئے۔
پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 90 دریا خان، بھکر سے عمران خان کے کزنز عرفان اللہ نیازی، رفیق خان نیازی کے کاغذات نامزدگی بھی مسترد کیے گئے۔
پی کے 59 مران سابق وزیر عاطف خان کے کاغذات نامزدگی کوبھی مسترد کردیا گیا ہے۔
پی کے 45 ایبٹ آباد سے مشتاق غنی کے کاغذات نامزدگی مسترد
این اے 4 سوات سے مراد سعید کے کاغذات نامزدگی مسترد
این اے 15 مانسہرہ سے اعظم سواتی کے کاغذات نامزدگی مسترد
این اے 23 مردان سے بھی علی محمد خان کے کاغذات مسترد کردیے گئے
این اے 28 پشاور سے تحریک اںصاف کے سابق صوبائی وزیر تیمور سلیم جھگڑا کے کاغذات نامزدگی مسترد
این اے 30 پشاور سے شاندانہ گلزار کے کاغذات نامزدگی مسترد
سابق ڈپٹی سپیکر کے پی محمود جان کے حلقہ پی کے 72 پشاور سے کاغذات نامزدگی مسترد
این اے 19 صوابی اسد قیصر این اے 20 صوابی سے شہرام ترکئی کے کاغذات مسترد
پی کے 50 سے اسد قیصر اور پی کے۔52 53 سے شہرام ترکئی کے کاغذات مسترد کیے گئے.

