’ایک خاتون کے لیے اتنی پولیس‘، پشاور ہائیکورٹ سے زرتاج گل کی ضمانت منظور
پشاور ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کی رہنما زرتاج گل کو راہداری ضمانت دیتے ہوئے صوبائی پولیس کے حکام کو حکم دیا ہے کہ گرفتار نہ کیا جائے۔
بدھ کی رات پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس محمد ابراہیم خان نے زرتاج گل کی راہدداری ضمانت کی درخواست پر سماعت کی۔
چیف جسٹس نے پشاور کے ایس ایس پی آپریشنز اور شہر کی پولیس کے سربراہ (سی سی پی او) کو عدالت طلب کیا۔
انہوں نے پولیس حکام سے پوچھا کہ ’پشاور ہائی کورٹ میں کیا ہو رہا تھا، مجھے اسلام آباد سے آنا پڑا۔‘
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’اگر میں ہائی کورٹ میں نہ آتا تو یہ خاتون پشاور ہائیکورٹ میں رات گزارتی، ایک خاتون کی گرفتاری کے لیے اتنی نفری لائی گئی۔‘
چیف جسٹس محمد ابراہیم خان نے کہا کہ ’آج گیٹ کے باہر میرے 22گریڈ آفیسر رجسٹرار کی بے عزتی کی گئی۔
چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا آپ پولیس میں 22گریڈ افیسر موجود ہیں؟ ’اگر کسی کو رات دو بجے بھی میری ضرورت ہو گی میں پہنچ جاؤں گا۔‘
چیف جسٹس نے زرتاج گل کی حفاظتی راہداری ضمانت منظور کرتے ہوئے پولیس کو ہدایت کی کہ اب درخواست گزار کو گرفتار نہیں کیا جائے گا۔

