سعودی عرب کے لیے 100 ارب ڈالر کے امریکی ہتھیاروں کا پیکج تیار
امریکہ سعودی عرب کو 100 بلین ڈالر سے زائد مالیت کے ہتھیاروں کے پیکج کی پیشکش کرنے کے لیے تیار ہے۔
اس معاملے سے براہ راست آگاہی رکھنے والے چھ ذرائع نے خبر رساں ایجنسی روئٹرز کو بتایا ہے کہ یہ تجویز مئی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مملکت کے دورے کے دوران اعلان کے لیے تیار کی جا رہی ہے۔
پیش کردہ پیکیج اس وقت سامنے آیا ہے جب سابق صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے ایک وسیع معاہدے کے حصے کے طور پر ریاض کے ساتھ دفاعی معاہدے کو حتمی شکل دینے کی ناکام کوشش کی تھی جس میں سعودی عرب کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کا تصور دیا گیا تھا۔
صدر بائیڈن کی تجویز نے چینی ہتھیاروں کی خریداری کو روکنے اور سعودی عرب میں بیجنگ کی سرمایہ کاری کو محدود کرنے کے بدلے مزید جدید امریکی ہتھیاروں تک رسائی کی پیشکش کی تھی۔
روئٹرز اس بات کا تعین نہیں کر سکا کہ آیا ٹرمپ انتظامیہ کی تجویز میں بھی ایسی ہی تجاویز یا شرائط شامل ہیں۔
وائٹ ہاؤس اور سعودی عرب کی وزارت اطلاعات نے فوری طور پر تبصرہ کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔
ایک امریکی دفاعی اہلکار نے بتایا کہ ’صدر ٹرمپ کی قیادت میں سعودی عرب کے ساتھ ہمارے دفاعی تعلقات پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہیں۔ ہمارے سکیورٹی تعاون کو برقرار رکھنا اس شراکت داری کا ایک اہم جزو ہے اور ہم سعودی عرب کی دفاعی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ان کے ساتھ مل کر کام کرتے رہیں گے۔‘
اپنے پہلے دور میں صدر ٹرمپ نے سعودی عرب کو ہتھیاروں کی فروخت کو امریکی ملازمتوں کے لیے اچھا قرار دیا تھا۔
دو ذرائع نے بتایا کہ امریکہ کی لاک ہیڈ مارٹن کارپوریشن سعودی عرب کو C-130 ٹرانسپورٹ ہوائی جہاز سمیت جدید ہتھیاروں کے نظام کی ایک رینج فراہم کر سکتی ہے۔ ایک اور ذریعے نے بتایا کہ لاک ہیڈ مارٹن کارپوریشن میزائل اور ریڈار نظام بھی فراہم کرے گا۔
ریتھیان ٹیکالوجیز کے بھی اس امریکی پیکج میں اہم کردار ادا کرنے کی توقع ہے، جس میں بوئنگ کمپنی جیسے دیگر بڑے امریکی دفاعی ٹھیکیداروں کی سپلائی شامل ہوگی۔
تمام ذرائع نے معاملے کی حساسیت کے پیش نظر نام ظاہر کرنے سے انکار کیا۔
آر ٹی ایکس، نارتھروپ اور جنرل ایٹمکس نے تبصرہ کرنے سے انکار کیا جبکہ بوئنگ نے فوری طور پر تبصرہ کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔
لاک ہیڈ مارٹن کے ترجمان نے کہا کہ کسی بھی دوسرے ملک کو ہتھیاروں کی فروخت دو حکومتوں کے درمیان لین دین ہے۔ غیرملکی حکومتوں کو ہتھاروں کی فروخت کے بارے میں سوالات کے امریکی حکومت ہی جواب دے سکتی ہے۔

