متفرق خبریں

انڈیا میں سائبر حملوں میں 228 ارب سے روپے کی چوری

اگست 8, 2025

انڈیا میں سائبر حملوں میں 228 ارب سے روپے کی چوری

انڈیا کو سنہ 2024 میں سائبر حملوں اور فراڈیوں کی وجہ سے تقریباً 228 (22,842 کروڑ) ارب روپے سے زائد کا نقصان ہوا۔

دلی سے تعلق رکھنے والی ایک میڈیا ٹیکنالوجی کمپنی ’ڈیٹا لیڈز‘ نے ’سائبر کرائم کی جہتیں: آن لائن مالی فراڈز اور ڈیپ فیکس کے مسلسل اور ابھرتے ہوئے خطرات ہیں‘ کے عنوان سے رپروٹ شائع کی ہے جس میں نقصان کی تفصیل بتائی گئی ہے۔

انڈیا کی مرکزی حکومت کے تحت چلنے والے ادارے انڈین سائبر کرائم کوآرڈینیشن سینٹر (آئی فور سی) نے خبردار کیا ہے کہ اس سال یہ نقصان ایک لاکھ بیس ہزار کروڑ روپے سے تجاوز کر سکتا ہے۔

گزشتہ سال کی چوری کی گئی رقم سنہ 2023 میں چوری ہونے والے سات ہزار 465 کروڑ روپے سے تقریباً تین گنا اور سنہ 2022 میں چوری ہونے والے دو ہزار 306 کروڑ روپے سے تقریباً دس گنا زیادہ ہے۔

سائبر کرائم کی شکایات میں بھی اسی طرح اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سنہ 2024 میں تقریباً 20 لاکھ شکایات درج کی گئیں جو سنہ 2023 کے 15.6 لاکھ کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں جبکہ سنہ 2019 کے مقابلے میں یہ دس گنا اضافہ ہے۔
یہ بڑھتی ہوئی شکایات اور مالی نقصان اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ انڈیا میں ڈیجیٹل جرائم پیشہ افراد زیادہ چالاک اور اپڈیٹ ہو گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ملک میں بے روزگاری کے شکار تقریباً 290 لاکھ افراد میں سے کئی ایسے ہیں جو اس جرائم پیشہ نیٹ ورک کا حصہ بن رہے ہیں۔
بڑھتے ہوئے سائبر کرائم کی وجوہات کیا ہیں؟

گزشتہ تین سالوں میں سائبر کرائم اور سائبر چوریوں کے اعداد و شمار کے بڑھنے کی بڑی وجہ ڈیجیٹل پےمینٹس (ڈیجیٹل ادائیگیوں) میں اضافہ ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق  رواں برس جون میں یو پی آئی (یونائیٹڈ پیمنٹ انٹرفیس) کے ذریعے 190 لاکھ سے زیادہ لین دین ہوئے جن کی مجموعی مالیت 24.03 لاکھ کروڑ روپے تھی۔
ڈیجیٹل ادائیگیوں کا حجم سنہ 2013 میں 162 کروڑ روپے تھا جو جنوری 2025 میں بڑھ کر 18 ہزار 120 کروڑ سے زیادہ ہو چکی ہے۔
اس وقت انڈیا دنیا بھر میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کا تقریباً آدھا حصہ فراہم کرتا ہے۔

یہ سب کورونا وبا کے دوران ہوا جب حکومت نے سوشل ڈسٹنسنگ کو فروغ دینے کے لیے یو پی آئی ایپلی کیشنز کے ذریعے لین دین کو اپنانے پر زور دیا۔ حکومت کا ماننا تھا کہ ڈیجیٹل ادائیگیاں دیہی علاقوں میں مالی خدمات کی رسائی کو آسان بنائیں گی۔

سنہ 2019 تک انڈیا میں 440 ملین سمارٹ فون صارفین تھے اور ڈیٹا ریٹ دنیا بھر میں سب سے سستے تھے۔ اس وقت ایک جی بی انٹرنیٹ کی قیمت 200 روپے یا اس سے بھی کم تھی۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ چھوٹے شہروں اور دیہاتوں میں لوگ آسانی سے موبائل کے ذریعے مالی خدمات تک رسائی حاصل کر سکتے تھے جو بینک کھولنے سے کہیں سستا اور آسان طریقہ تھا۔

مگر جیسے جیسے اس نظام کا دائرہ کار وسیع ہوتا گیا اس کے ساتھ ہی ایک جرائم پیشہ نیٹ ورک بھی تیار ہو گیا جو اب مختلف طریقوں سے ڈیجیٹل بینکنگ صنعت کو نشانہ بنا رہا ہے۔

یہ فراڈی دور حاضر کی جدید ٹیکنالوجی، جیسے مصنوعی ذہانت اور ڈیپ فیک ویڈیوز کا استعمال کرتے ہیں جن میں مشہور شخصیات اور بزنس لیڈروں کی شکل استعمال کی جاتی ہے تاکہ لوگوں کا اعتماد حاصل کیا جا سکے۔

مختلف قسم کے فراڈ

بینکنگ فراڈ میں سب سے زیادہ اضافہ دیکھا گیا۔ ریزرو بینک کے مطابق مالی سال 2025 اور26 کی پہلی ششماہی میں گزشتہ سال کے مقابلے میں آٹھ گنا اضافہ ہوا ہے۔ چوری گئی رقم دو ہزار 683 کروڑ روپے سے بڑھ کر 21 ہزار 367 کروڑ روپے ہو گئی ہے۔

نجی بینکوں میں ایسے واقعات کا تناسب 60 فیصد رہا ہے لیکن سب سے زیادہ نقصان سرکاری بینکوں کے صارفین کو ہوا جنہیں مجموعی طور پر 25 ہزار 667 کروڑ روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔

انشورنس سیکٹر میں بھی دھوکہ دہی کے معاملات عام ہو رہے ہیں۔ جیسے انشورنس کمپنیاں صارفین کو موبائل ایپلی کیشنز پر منتقل ہونے کی ترغیب دیتی ہیں ویسے ویسے یہ شعبہ سائبر مجرموں کے لیے زیادہ منافع بخش بنتا جا رہا ہے۔

اس قسم کے فراڈز میں مشہور برانڈز کے نام اور لوگوز استعمال کیے جاتے ہیں اور اکثر پہلا رابطہ واٹس ایپ یا کسی اور میسجنگ ایپ کے ذریعے کیا جاتا ہے۔

سرمایہ کاری سے متعلق فراڈ بھی عام ہوتے جا رہے ہیں۔

حیران کن منافع کے وعدے پر تعلیم یافتہ افراد بھی دھوکہ کھا جاتے ہیں جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مالیاتی شعور کی کمی اب بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے