برطانیہ میں پاکستانی شہری پر مبینہ زیادتی اور تشدد کا الزام، متاثرہ غیرملکی خاتون انصاف کے لیے اسلام آباد میں
برطانیہ میں مقیم ایک بنگلہ دیشی نژاد خاتون نے پاکستانی شہری کے خلاف شادی کا جھانسہ دے کر مبینہ زیادتی، جسمانی تشدد، مالی استحصال اور دھمکیوں کے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے اسلام آباد میں قانونی کارروائی کے لیے متعلقہ حکام سے رابطہ کیا ہے۔
درخواست کے مطابق متاثرہ خاتون فویجن نیسا شرمین نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اُن کی ملاقات لندن میں پاکستانی شہری شرجیل زاہد سے ہوئی جہاں دونوں کے درمیان تعلقات قائم ہوئے۔ خاتون کے مطابق ملزم نے شادی اور مستقبل کے وعدے کر کے اعتماد حاصل کیا تاہم بعد ازاں مبینہ طور پر اسے ذہنی، جسمانی اور مالی استحصال کا سامنا کرنا پڑا۔
خاتون نے الزام عائد کیا کہ ملزم نے مختلف اوقات میں اس سے ہزاروں پاؤنڈ حاصل کیے جبکہ متعدد مواقع پر مبینہ طور پر تشدد اور زبردستی تعلقات کا نشانہ بھی بنایا۔
درخواست میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ طبی رپورٹس کے مطابق خاتون حاملہ ہوئی جبکہ ملزم کو بچے کا حیاتیاتی والد قرار دیا گیا۔
دستاویزات کے مطابق ملزم بعد ازاں برطانیہ چھوڑ کر پاکستان واپس آ گیا جبکہ متاثرہ خاتون انصاف کے حصول کے لیے خود اسلام آباد پہنچ گئی ہے۔
خاتون کا کہنا ہے کہ اسے کیس واپس لینے کے لیے دباؤ اور دھمکیوں کا سامنا بھی رہا۔
متاثرہ خاتون نے پاکستانی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی شفاف تحقیقات کر کے انصاف فراہم کیا جائے جبکہ تاحال ملزم کی جانب سے کوئی مؤقف سامنے نہیں آیا۔
اسلام آباد پولیس نے کیس کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

