اہم خبریں

پندرہ ماہ کی عدالتی سزا والے شہری کے 12 برس جیل میں‌ گزر گئے، پشاور ہائیکورٹ

مئی 21, 2026

پندرہ ماہ کی عدالتی سزا والے شہری کے 12 برس جیل میں‌ گزر گئے، پشاور ہائیکورٹ

پشاور ہائیکورٹ میں‌ ایک ایسا مقدمہ زیرِسماعت آیا کہ جس نے پاکستان کے نظام میں‌ ایک عام شہری کی زندگی اور آزادی کی قدر نہ ہونے کے سنگین مسئلے کو ایک بار پھر عیاں‌ کیا ہے-

پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ کی عدالت نے پیر کے روز خیبر پختونخوا کے محکمہ داخلہ اور دیگر حکام کو اس مقدمے میں‌ رپورٹس جمع کرانے کی ہدایت کی ہے-

عدالتی بینچ نے اس سنگین کوتاہی اور غفلت پر ناخوشی کا اظہار کیا کہ ایک شخص جو عدالت کی جانب سے دی گئی سزا دہائی قبل پوری کر چکا ہے اس کو رہا نہیں کیا گیا-

امین حسین نامی شہری سزا مکمل کرنے کے باوجود کراچی میں 12 سال تک قید رہا۔

چیف جسٹس کے سنگل ممبر بینچ نے اُس درخواست کی سماعت کی جس میں امین حسین کو، جو کہ سینٹرل جیل کراچی میں قید تھا، خیبر پختونخوا منتقل کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔
سماعت کے دوران درخوست گزار کے وکیل، سرکار کی جانب سے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نعمان حق کاکاخیل، صوبائی محکمہ داخلہ کے حکام، اور پولیس افسران عدالت میں پیش ہوئے۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو مطلع کیا کہ امین حسین، جو خیبر پختونخوا کے ضلع کرم کا رہائشی ہے، نے اپنی سزا مکمل کر لی تھی لیکن 12 سال تک کراچی کی سینٹرل جیل میں قید رہا۔
انہوں نے بتایا کہ ضلع کرم پولیس کا دعویٰ ہے کہ یہ شخص قتل کے ایک مقدمے میں مطلوب ہے، جس کی سماعت ابھی شروع نہیں ہوئی۔

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار کو اب کراچی جیل سے منتقل کر کے کرم جیل میں رکھا گیا ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ امین حسین کو 2014 میں کراچی میں منشیات کے ایک کیس میں گرفتار کیا گیا اور 2016 میں ایک سال اور تین ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے مزید کہا کہ کرم انتظامیہ نے ہوم ڈیپارٹمنٹ یعنی محکمہ داخلہ کے ذریعے کراچی میں‌ محکمہ داخلہ کو مجرم کی منتقلی کی درخواست ارسال کی تھی، کیونکہ وہ ایک اور کیس میں مطلوب تھا۔ تاہم سنہ 2018 میں انتظامی تبدیلیوں کے بعد، جب مقامی سیاسی انتظامیہ یعنی بلدیاتی نظام کو ضلعی انتظامیہ میں تبدیل کیا گیا، تو معاملے میں تاخیر ہوئی۔

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کے مطابق 26 جولائی 2019 کو ضلع کرم کے ڈپٹی کمشنر نے مقامی پولیس کے سربراہ ملزم کی کراچی سے آبائی علاقے منتقلی کے لیے خط لکھا، لیکن 2019 کے بعد کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

درخواست گزار کے وکیل نے دوبارہ کہا کہ سزا مکمل ہونے کے باوجود امین حسین کراچی میں 12 سال تک قید میں رہا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ درخواست گزار کی زندگی کے 12 سال لاپرواہی کی وجہ سے ضائع ہوئے ہیں، اس کے لیے ذمہ دار افراد کو جواب دہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے