عثمان خواجہ کی آسٹریلوی ٹیم میں آخری بار واپسی، 40 سال کا ریکارڈ بن گیا
انگلینڈ کے خلاف ایشز سیریز کے تیسرے ٹیسٹ میچ میں ایڈلیڈ گراؤنڈ پر اترنے سے ایک رات پہلے کرکٹ آسٹریلیا نے ٹیسٹ ٹیم کا اعلان کیا تو عثمان خواجہ شامل نہیں تھے۔
میچ چند لمحے قبل مایہ ناز آسٹریلوی بیٹسمین سٹیو سمتھ کے بیماری کے باعث ٹیم سے باہر ہونے کا اعلان کیا گیا۔
آسٹریلوی کپتان پیٹ کمنز نے ٹاس کے بعد تصدیق کی کہ سٹیو سمتھ کی بیماری کے باعث ان کی جگہ عثمان خواجہ کھیل رہے ہیں۔
گذشتہ روز ہی کمنز نے کہا تھا کہ عثمان خواجہ ایڈلیڈ ٹیسٹ کا حصہ نہیں ہوں گے۔ اس کے بعد عثمان خواجہ کی ٹیسٹ کرکٹ میں دوبارہ واپسی کے امکانات بہت کم تھے۔
سٹیو سمتھ کے اچانک باہر ہونے کے باعث عثمان خواجہ اِن ہو گئے اور انہوں نے چوتھے نمبر پر بیٹنگ کرتے ہوئے 82 رنز کی شاندار اننگز بھی کھیلی۔ ابتدا میں ان کو پانچ رنز کے انفرادی سکور پر ایک چانس بھی ملا جب ان کا کیچ ڈراپ ہوا جس کا انہوں نے بھرپور فائدہ اٹھایا۔
85 ٹیسٹ میچز میں 43.56 کی بیٹنگ اوسط سے کھیلنے والے عثمان خواجہ رواں برس جنوری میں سری لنکا کے خلاف 232 رنز بنانے کے بعد ایک بھی ٹیسٹ نصف سینچری سکور نہیں کر سکے تھے۔
جمعرات کو عثمان خواجہ کی 39ویں سالگرہ ہے اور یوں وہ گذشتہ 40 برسوں کے دوران 39 سال کی عمر میں ٹیسٹ کھیلنے والے پہلے آسٹریلوی ٹیسٹ کرکٹر بن جائیں گے۔
پاکستانی نژاد آسٹریلوی کرکٹر بچپن میں اپنے خاندان کے ساتھ آسٹریلیا منتقل ہو گئے تھے۔ 2011 میں انہوں نے آسٹریلیا کے لیے پہلا انٹرنیشنل میچ کھیلا تھا۔
پہلی اننگز کی پرفارمنس کے بعد بظاہر لگتا ہے کہ وہ ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائر ہونے کا اعلان کریں گے۔

