جرمنی میں فلمی انداز کی بڑی بینک ڈکیتی، چور 30 ملین یورو لے اُڑے
جرمنی میں ایک ایسی سنسنی خیز واردات سامنے آئی ہے جس نے نہ صرف عوام بلکہ سکیورٹی ماہرین کو بھی حیران کر دیا۔
ملک کے شہر گیلسن کرشن میں واقع ایک معروف بینک کی شاخ میں چوروں نے انتہائی منصوبہ بندی اور مہارت کے ساتھ بینک کی مضبوط کنکریٹ دیوار توڑ کر تقریباً 30 ملین یورو مالیت کی رقم اور قیمتی اشیاء چرا لیں۔
چور بینک کے زیرِ زمین پارکنگ ایریا کے راستے اندر داخل ہوئے۔ انہوں نے جدید مشینری اور طاقتور ڈرلز کی مدد سے بینک کے والٹ تک رسائی حاصل کی۔
دیوار میں بڑا سوراخ کر کے وہ سینکڑوں سیف ڈپازٹ باکسز تک پہنچ گئے اور گھنٹوں تک بلارکاوٹ اپنا کام کرتے رہے۔ یہ واردات کرسمس کی تعطیلات کے دوران انجام دی گئی، جب بینک بند تھا اور سکیورٹی عملہ محدود موجود تھا۔
حیران کن طور پر نہ تو فوراً الارم بجا اور نہ ہی کسی کو مشکوک سرگرمی کا علم ہو سکا۔ جب بعد میں الارم سسٹم متحرک ہوا تو چور موقع سے فرار ہو چکے تھے۔
بینک انتظامیہ کے مطابق ہزاروں صارفین کے سیف لاکرز متاثر ہوئے ہیں، جن میں نقد رقم، سونے کے زیورات، قیمتی گھڑیاں اور اہم دستاویزات شامل تھیں۔
ابتدائی اندازوں کے مطابق نقصان تقریباً تیس ملین یورو تک پہنچ چکا ہے، جو جرمنی کی حالیہ تاریخ کی سب سے بڑی بینک ڈکیتیوں میں شمار کی جا رہی ہے۔
پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
سی سی ٹی وی فوٹیج، استعمال شدہ آلات اور فرار کے راستوں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ واردات کسی منظم جرائم پیشہ گروہ کی کارستانی لگتی ہے، جو بینک سیکیورٹی نظام سے مکمل واقف تھا۔
دوسری جانب بینک انتظامیہ نے متاثرہ صارفین کو یقین دہانی کرائی ہے کہ انشورنس کمپنیوں کے تعاون سے نقصان کا ازالہ کیا جائے گا، تاہم صارفین میں شدید بے چینی اور غصہ پایا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ واقعہ ایک بار پھر اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ جدید ترین سکیورٹی نظام کے باوجود بینک کس حد تک محفوظ ہیں؟ اور کیا بڑے مالی ادارے واقعی ایسی منظم جرائم کے سامنے بے بس ہوتے جا رہے ہیں؟
اب صورتحال یہ ہے کہ ہر ماہ کم از کم ایک بینک ڈکیتی معمول بنتی جا رہی ہے۔ پولیس چوروں کو گرفتار کرنے میں مسلسل ناکام دکھائی دیتی ہے۔
اور یہ سازشی تھیوری پھیل ہے کہ کہیں نہ کہیں چوروں کو بااثر حلقوں کی سرپرستی حاصل ہے۔
ایسی صورتِ حال میں پولیس کی کارکردگی پر سنجیدہ سوالیہ نشان قائم ہو چکا ہے.

