متفرق خبریں

ایک اجلاس میں شرکت کا الاؤنس 14 سے 20 لاکھ کون، کون وصول کر رہا ہے؟

جنوری 13, 2026

ایک اجلاس میں شرکت کا الاؤنس 14 سے 20 لاکھ کون، کون وصول کر رہا ہے؟

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (PTCL) بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین اور ممبران کو میٹنگ کی بھاری فیسوں اور مراعات پر ایک بڑا تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔

سرکاری دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ پی ٹی سی ایل کے چیئرمین ایک بورڈ میٹنگ یا اجلاس میں شرکت کے 8,000 ڈالر یا 22 لاکھ روپے وصول کرتے ہیں، جبکہ ہر ڈائریکٹر کو فی اجلاس 5,000 ڈالر یا 14 لاکھ تک ادائیگی کی جاتی ہے۔

صحافی آفتاب میکن کی رپورٹ کے مطابق پی ٹی سی ایل کو مالی دباؤ اور آپریشنل چیلنجز کا سامنا ہے اور اس کے باوجود ایک اجلاس میں شرکت کے لیے اتنی بڑی ادائیگیاں جاری ہیں۔

اس پر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن کی جانب سے شدید تنقید کی گئی ہے۔

کمیٹی میں اس معاملے پر کم از کم تین بار بحث ہو چکی ہے، سینیٹرز نے شفافیت اور انصاف کے فقدان پر غم و غصے کا اظہار کیا ہے، خاص طور پر چونکہ یہ فیس سرکاری ملازمین (وفاقی سیکرٹریز اور ایک وزیر) کو ادا کی جا رہی ہے جو پہلے ہی پوری سرکاری تنخواہیں لے رہے ہیں۔

سرکاری دستاویز کے مطابق پی ٹی سی ایل بورڈ میں تین وفاقی سیکرٹریز اور وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد چیمہ بطور ممبر شامل ہیں۔

کمیٹی نے سوال کیا ہے کہ ڈالر کی شکل میں یہ ادائیگیاں حکومت کی مقررہ سالانہ حد سے تجاوز کیسے کر گئیں؟

سینیٹرز نے اس بارے میں وضاحت کا مطالبہ کیا ہے کہ آیا اضافی رقم واپس کی جا رہی ہے یا نہیں کیونکہ قواعد کے مطابق کوئی بھی سرکاری ملازم تنخواہ کے علاوہ ایک ملین یا دس لاکھ روپے سے زائد کی رقم الاؤنس کی مد میں ایک ماہ میں ایک ساتھ وصول نہیں کر سکتا۔

سینیٹرز نے عام شہریوں کو درپیش معاشی مشکلات کے دوران اس پریکٹس کو مبہم اور غیرمنصفانہ قرار دیتے ہوئے تنقید کی۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے