کوہلی کی سینچری مگر نیوزی لینڈ نے انڈیا کو تاریخی شکست دے دی
نیوزی لینڈ نے تاریخ رقم کرتے ہوئے انڈیا کو اُس کے ہوم گراؤنڈ پر تین میچوں کی ایک روزہ سیریز میں دو ایک سے شکست دے دی ہے۔
اتوار کو انڈیا کے اندور کرکٹ سٹیڈیم میں ہزاروں شائقین کو یقین تھا کہ نیوزی لینڈ کے پہلے کھیلتے ہوئے 337 رنز بنانے کے باوجود وراٹ کوہلی تیسرا ایک روزہ میچ جتوا دے گا اور ہوم گراؤنڈ پر نیوزی لینڈ کے ہاتھوں پہلی مرتبہ ون ڈے سیریز میں شکست ٹل جائے گی۔
یہ یقین اُس وقت مزید بڑھ گیا سینچری بنانے کے بعد کریز پر کھڑے کوہلی نے 46 ویں اوور کا آغاز بیک ٹو بیک باؤنڈریز سے کیا، اُس وقت انڈین ٹیم کو 28 گیندوں پر 48 رنز کی ضرورت تھی۔ لیکن دو گیندوں کے بعد وہ ایک گیند کو درست طور پر جج کرنے میں ناکام رہے اور قدموں کا استعمال کر کے جب کوہلی نے گیند کو باؤنڈری سے باہر پھینکنا چاہا تو وہ لانگ آف پر پر ڈیرل مچل کے ہاتھوں میں چلی گئی۔ دنیا کے ایک بہترین اور سب سے زیادہ اِن فارم ون ڈے بلے بازوں میں سے ایک کو آؤٹ کرنے پر مچل اور بولر نے جشن منایا۔ اس میں نیوزی لینڈ کی پوری ٹیم بھی شامل ہوئی کہ اب وہ تاریخ رقم کرنے میں آڑے آنے والے ایک کھلاڑی کو پویلین واپس بھیج چکے تھے۔
وراٹ کوہلی 108 گیندوں پر 124 رنز بنا کر بوجھل قدموں سے واپس چلے گئے۔ اور اس کے ساتھ شائقین کی اُمیدیں بھی ختم ہو گئیں اور سینکڑوں کی تعداد میں وہ باہر جانے والے راستوں کی طرف دیکھنے لگے۔
یہ ون ڈے میں کوہلی کی 29ویں سنچری تھی۔
اور اس کے دو گیندوں بعد یہ کھیل ہی ختم ہو گیا ہے۔ ارشدیپ سنگھ شارٹ کور پر فلپس کے دائیں طرف کھیلے، وہ اور کلدیپ یادیو دونوں ہی سنگل کے لیے دوڑے، لیکن گیند کو دیکھنے میں اُن کو اتنا ہی وقت لگا جتنی دیر میں فلپس نے سٹرائیکر اینڈ پر تھرو کیا اور کلدیپ کو رن آؤٹ کر دیا۔
انڈیا کی ٹیم 46اوورز میں 296 رنز پر آل آؤٹ ہو گئی۔ نیوزی لینڈ نے میچ 41 رنز سے جیت لیا۔ نیوزی لینڈر پہلی بار انڈیا میں ون ڈے سیریز جیت گئے اور وہ بھی ایسی کہ پہلا میچ ہار گئے تھے۔ کیویز نے اگلے دونوں میچز میں انڈیا کو ہوم گراؤنڈ پر ہرایا۔
نیوزی لینڈ اکی ٹیم کو انتہائی کمزور قرار دیا جا رہا تھا اور گزشتہ برس کیویز نے انڈیا کو تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں وائٹ واش کیا تھا۔

