متفرق خبریں

’اس طرح بنانا ری پبلک میں بھی نہیں ہوتا‘، اسلام آباد میں وکلا رہنماؤں کی پریس کانفرنس

جنوری 22, 2026

’اس طرح بنانا ری پبلک میں بھی نہیں ہوتا‘، اسلام آباد میں وکلا رہنماؤں کی پریس کانفرنس

اسلام آباد کی وکلا تنظیموں کے عہدیداروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ بار کی عمارت کا پولیس محاصرہ ختم کیا جائے اور وہاں موجود ایڈووکیٹ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ ایڈووکیٹ کے خلاف جتنے بھی مقدمات درج کیے گئے ہیں اُن کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔

بدھ کی رات ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کی عمارت میں ہائیکورٹ بار کے صدر واجد گیلانی اور اسلام آباد ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر نعیم گجر نے دیگر وکلا رہنماؤں کے ہمراہ نیوز کانفرنس کی۔

واجد گیلانی ایڈووکیٹ نے کہا کہ ’میں درخواست کرتا ہوں کہ بار کی عمارت کا حصار ختم کیا جائے اور ہمارے وکلا کو قانونی راستہ دیا جائے۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ ’ادارے ایک دوسرے کی عزت کریں، ہم آپ کی عزت کرتے ہیں آپ بھی ہمارے ادارے کی عزت کریں۔‘

ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر نے کہا کہ ’ضمانت قبل از گرفتاری ہر ملزم کا حق ہے، جب ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست دائر ہو چکی ہو تو درخواستگزار کو ہراساں نہیں کیا جا سکتا۔ میں اداروں سے درخواست کرتا ہوں کہ ایمان اور ہادی کو قانونی راستہ فراہم کیا جائے۔‘
واجد گیلانی نے خبردار کیا کہ ’اگر ہماری بات نا سنی گئی تو پھر ہمیں کوئی بڑا قدم اٹھانا پڑے گا۔ ہمارے ادارے کے گرد جو فورسز تعینات کر رکھی ہیں وہ غیرقانونی قدم ہے۔‘

اس موقع پر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن اسلام آباد کے صدر چودھری نعیم گجر نے کہا کہ ’اسلام آباد پولیس نے ہمیں چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے۔ ایمان مزاری، اسلام آباد ہائیکورٹ بار اور ڈسٹرکٹ بار کے رہنماؤں کو مقید کر کے رکھ دیا گیا ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’ہماری گاڑیوں کی ڈگیاں چیک کی جا رہی ہیں، دو دن سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں آنکھ مچولی چل رہی ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’ہم وزیراعظم شہباز شریف، وزیر قانون، وزیر داخلہ اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے درخواست کرتے ہیں کہ ہم وکلا اور ہمارے معزز ممبران ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے ساتھ وفاقی دارالحکومت میں یہ سلوک نہ کیا جائے۔‘

نعیم گجر کا کہنا تھا کہ ’اور اُن کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات دی جائیں تاکہ وہ اُس پر قانونی چارہ جوئی کر سکے۔ ہم نہیں کہتے کہ بے جا ہمارا ساتھ دیا جائے، ہمارا مطالبہ ہے کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چھٹہ پر جو ایف آئی آرز ہیں وہ سامنے لائیں، ہم اس کا سامنا عدالت میں کریں گے۔‘
’ہمارے اوپر جو ایف آئی آرز ہوں گی ہم اس پر عدالت کے آگے سرنڈر کریں گے، اسلام آباد ہائیکورٹ کی عزت کو مجروح نہ کیا جائے، ہمیں سیف راستہ دیا جائے، آئی جی اسلام آباد سے گزارش ہے کہ ادھر آ جائیں ادھر سے گرفتار کر لیں، آپ ہمیں ہراساں کر رہے ہیں، ہماری جگ ہنسائی ہو رہی ہے لوگ کہ رہے ہیں یہ وکلا کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ملک ایسے نہیں چلا کرتے، اس طرح شاید بنانا ری پبلک میں بھی نہیں ہوتا۔‘

قبل ازیں بدھ کی دوپہر اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس اعظم خان کی عدالت نے ایڈووکیٹ ایمان مزاری اور ایڈووکیٹ ہادی علی چٹھہ کو چھ ماہ قبل درج کیے گئے دہشت گردی کے مقدمے میں دو دن کی حفاظتی ضمانت دی تھی۔
دونوں وکلا نے ٹویٹس کیس میں ضمانت منسوخ کیے جانے کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا اور دو دن سے اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے دفتر میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے