ایمان مزاری اور ہادی علی سے ملاقات نہ کرانے پر دائر درخواست ہائیکورٹ نے جیل حکام کو بھیج دی
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے شیریں مزاری کی رٹ درخواست پر اُن کے وکیل کامران مرتضیٰ کو اڈیالہ جیل کے سُپرنٹنڈنٹ کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کی۔
شیریں مزاری نے اڈیالہ جیل میں اپنی بیٹی ایمان مزاری اور داماد ہادی علی چٹھہ سے دو ہفتوں میں ملاقات نہ کرانے پر ہائیکورٹ سے رجوع کیا ہے۔
جسٹس طاہر نے وکیل سے کہا کہ پہلے جیل انتظامیہ اُن کی درخواست پر فیصلہ کرے گی اور انکار کی صورت میں وہ ہائی کورٹ آ سکتے ہیں۔
ایڈوکیٹ کامران مرتضی نے کہا کہ اُن کو کسی تحصیلدار کی عدالت میں بطور وکیل پیش ہونے سے مسئلہ نہیں مگر وہ وکیل کی حیثیت میں کسی جیل سپرنٹنڈنٹ کے سامنے پیش نہیں ہوں گے۔
جسٹس ارباب طاہر نے اس پر کہا کہ درخواست گزار خود جیل انتظامیہ کے سامنے پیش ہو سکتا ہے۔
ایڈوکیٹ کامران مرتضیٰ کی استدعا پر عدالت نے رٹ درخواست کو جیل حکام کو بھجوانے کی ہدایت کی جس پر سپرنٹنڈنٹ کو متعین مدت میں فیصلہ کرنا ہو گا۔
ڈاکٹر شیریں مزاری نے سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ اُن کو ہائیکورٹ کے چیف جسٹس ڈوگر سے کوئی توقع نہیں مگر یہ امید ضرور ہے کہ کسی مرحلے پر وہ اپنے ضمیر کی آواز کو سنیں گے۔

