پاکستان

صحافی سُہراب برکت کی تیسرے مقدمے میں سپریم کورٹ سے ضمانت

فروری 18, 2026

صحافی سُہراب برکت کی تیسرے مقدمے میں سپریم کورٹ سے ضمانت

پاکستان کی سُپریم کورٹ نے ڈیجیٹل میڈیا آؤٹ لیٹ “سیاست ڈاٹ پی کے“ سے وابستہ رپورٹر سہراب برکت کی ایک مقدمے میں بعد از گرفتاری ضمانت منظور کر لی ہے۔

اس مقدمے میں لاہور ہائیکورٹ نے سہراب برکت کی ضمانت مسترد کر دی تھی جس کے خلاف اپیل دائر کی گئی۔

اُن کے وکیل سعد رسول نے ایکس پر بیان میں کہا کہ اس فیصلے کے بعد سہراب برکت اب رہا ہو چکے ہوتے مگر اسلام آباد کے ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکہ نے ایک اور مقدمے میں اُن کو دی گئی ضمانت گزشتہ ہفتے ختم کر دی ہے۔

جج مجوکہ کے اُس فیصلے کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے جس پر متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کیے جا چکے ہیں۔

سپریم کورٹ میں سہراب برکت کی ضمانت کیس میں جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیے کہ 2018 میں آر ٹی ایس نہ بیٹھتا تو آج ہمیں ففتھ جنریشن وارفیئر کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔

مقدمے کی سماعت کے دوران ایک موقع پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ صنم جاوید (پی ٹی آئی کی زیرحراست رہنما) سب کو مروا کر چھوڑے گی۔

سماعت کے دوران سرکاری استغاثہ نے ضمانت کی مخالفت کی تو جسٹس نعیم اختر نے کہا کہ یہاں اس وقت ملزم کو بری تو نہیں کر رہے، ٹرائل کر کے سزا دلوا دیں، اس کیس میں سب کے سامنے ہے کہ کس ادارے کے خلاف بات کی گئی۔

‏ جسٹس نعیم اختر افغان نے پوچھا کہ ٹرائل اس وقت کس مرحلے پر ہے؟

سہراب برکت کے وکیل نے بتایا کہ مرکزی ملزم صنم جاوید ہیں اور ان کو شامل تفتیش نہیں کیا گیا، چالان جمع کروا دیا گیا اور ملزم کو چالان تک رسائی نہیں دی گئی، فرد جرم بھی عائد نہیں ہوئی اور باقاعدہ ٹرائل شروع نہیں ہوا۔

جسٹس نعیم اختر نے این سی سی آئی اے کے تفتیشی افسر سے پوچھا کہ کیا کہ صنم جاوید کی تفتیش مکمل ہوئی ہے؟

تفتیشی نے بتایا کہ صنم جاوید کی تفتیش مکمل کرکے ضمنی چالان جمع کرایا ہے۔

جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیے کہ نومبر 2025 سے گرفتار ملزم تو اب جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہیں تو اس وقت تفتیش تو نہیں ہو رہی۔

سپریم کورٹ نے سماعت کے اختتام پر دو لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کرنے کا فیصلہ سُنایا۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے