مدح بر ایران اور امید کا اظہار، علی ارقم کا کالم
ایران ایک بے مثال ملک ہے، ایران بطور ملک، بطور تہذیب و تاریخی شعور، کلچر، ادب، فلم، موسیقی، آرکیٹیکچر اور تمام اصناف فنون لطیفہ اور پھر سب سے بڑھ کر بطور ایک متحرک معاشرہ ہر لحاظ سے اپنی ایک انفرادیت رکھتا ہے، جس سے انسیت و لگاؤ محسوس کرنا فطری سی بات ہے۔
بطور پشتون مجھے یہ کہنے میں باک نہیں کہ ہمارے اجداد کی جنم بھومی ایران ہے، ہماری زبان پشتو نے ایران کی زند و اویستا کے بطن ہی سے جنم لیا ہے اسی لیے پشتو کو انڈو ایرانین زبان کہا جاتا ہے، مجھے اس پورے خطے میں بسنے والی ہر قوم سے محبت و انس ہے لیکن اپنی تاریخ کی اس طاقتور کڑی سے لگاؤ شاید ڈی این اے کا حصہ ہے۔
میرے جتنے بھی دوست ایران گئے ہیں انہیں ایرانی معاشرے، عوام اور مجموعی ماحول نے تحیر میں مبتلا کیا ہے، شاید ہی کوئی فرد ایسا ہو جو ایران سے ہو کر آیا ہو اور اس کے پیار میں مبتلا نہ ہوا ہو۔
مجھے یاد ہے پاکستان کے صاحب دل ادیب و صحافی محمد حنیف جو (جو ہمارے جیسے نو سیکھے صحافیوں اور ادب کے طالبعلوں کے لیے مورل کمپاس کا درجہ رکھتے ہیں) ان سے رضوان صفدر کے ہمراہ ان کے گھر کے لان میں ایک بیٹھک میں سوال کیا کہ پاکستان میں جب بھی کسی بھی شعبے یعنی سیاست، ادب، فلم، فنون لطیفہ یا عمومی معاشرتی حالات میں زوال کی بات کی جاتی ہے تو جنرل ضیاالحق اور ان کا دور ایک سیاہ دور اور کردار کے طور پر سامنے آتا ہے۔
اگرچہ میں ضیاالحق کو اس زوال کے آرکیٹکٹ یا محرک کے بجائے صرف ایک کیٹالیسٹ کے طور پر دیکھتا ہوں یعنی وہ عنصر جس نے پہلے سے جاری گراوٹ و زوال کے عمل کو تیز کیا یعنی ایکسلریٹر پر پاؤں کا دباؤ بڑھا دیا اور بس۔
لیکن میرا سوال یہ تھا کہ آخر ایران بھی تو ملائیت کے جبر تلے انہتر کی دہائی کے اواخر سے کچلا جا رہا ہے سیاسی کارکن، تاریخ دان، دانشور، مذہبی اور لسانی اقلیتوں کے لوگ کلچرل ریزولوشن کے دوران اور انقلابی گارڈز کے قاتل دستوں کے ہاتھوں قتل کیے گئے۔
پھر بھی ایران بہترین ادب تخلیق کر رہا ہے، طاقتور آوازیں وہاں سے ابھرتی ہیں، اور ایران کی فلم وہ تو بین الاقوامی طور پر باکمال مانی جا چکی ہیں۔
حنیف صاحب نے ایران کی پانچ ہزار سالہ تاریخ و تہذیب کا حوالہ دیا اور کہا ہمارا ان سے کوئی موازنہ نہیں بنتا۔
تو اب ایران جس بحران سے دوچار ہے، میں یہ نہیں کہتا کہ کسی ایرانی ڈرون یا میزائل کی تل ایبب پر گرنے کی ویڈیو سے مجھے مسرت و اطمینان نہیں ہوتا لیکن اس کی قیمت ایران جس تباہی و بربادی کی صورت اور جس معاشی بحران کی صورت ادا کر رہا ہے وہ ایرانی عوام کے ساتھ زیادتی ہے۔
خدا کرے کہ امن اور جنگ بندی کی کوئی سبیل نکلے، اس جنگ کی تباہی سے اگر ایران کسی بھی قیمت پر خود کو بچا لے جائے یہ میرے لیے تو امید کی بات ہو گی۔
شاید یہ موقع نہیں کہ یہ کہا جائے لیکن اگر ایران سنہ 2009 میں حسین موسوی سے الیکشن چوری نہ کرتا، عوامی تحریک کو نہ کچلتا، اعتدال پسند قوتوں کو آیت اللہ اور ان کے حواری ملا، قانونی پابندیاں اور قدغن لگا کر پیچھے نہ دھکیلتے، افغانستان، شام و عراق و دیگر میں پراکسیز پر توانائیاں خرچ نہ کی جاتیں تو آج حالات اس نہج پر نہ ہوتے۔
اب جب آیت اللہ خامنہ ای کو 86 برس کی عمر میں شہادت مل گئی، ان کا خاندان بھی قربان ہو چکا، کئی سینیئر رہنما ان کے ساتھ رخصت ہو چکے، ایک معتدل رہنما علی لاریجانی ابھر کر سامنے آئے ہیں۔
شاید ایران میں سیاسی آزادیوں کے مطالبے اور معاشی بحران سے نکلنے کی خواہش رکھنے والی آوازوں کو سپیس میسر آئے اور ایران پھر سے ترقی و خوشحالی کی شاہراہ پر گامزن ہو سکے۔
دعا کی جاسکتی ہے، تمنا کی جاسکتی ہے۔

