’بعد میں پتہ چلا کہ عدیل کا کریکٹر ٹھیک نہیں‘، خاتون رپورٹر کا صحافی کے خلاف مقدمہ
اسلام آباد میں 92نیوز ٹی وی سے منسلک رپورٹر اقصیٰ خالد نے ڈیسک پر کام کرنے والے ساتھی صحافی عدیل پر ہراساں کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا ہے جس کے بعد تھانہ آبپارہ کے تفتیشی افسر نے ٹی وی چینل کے دفتر میں جا کر انتظامیہ سے پوچھ گچھ کی ہے۔
تھانہ آبپارہ میں درج کرائے گئے مقدمے میں اقصیٰ خالد نے بتایا کہ وہ 92نیوز میں سینیئر رپورٹر کے طور پر کام کرتی ہیں۔
’وہاں عدیل نامی شخص بھی کام کرتا ہے۔ کچھ عرصہ قبل میرے اور اس کے والدین نے ہماری منگنی کرا دی تھی۔ لیکن بعد میں ہمیں پتہ چلا کہ عدیل کا کریکٹر ٹھیک نہیں۔‘
ایف آئی آر میں مدعیہ نے مزید بتایا کہ منگنی ختم کیے جانے کے بعد مذکورہ شخص اُن کو ہراساں کر رہا تھا۔ ’دفتر میں دھمکیاں دیتا تھا اور شادی کے نام پر تنگ کرتا تھا۔ میں نے اپنے والد کو بتایا اور اس کی والد کو بھی پیغام بھیجا کہ اپنے بیٹے کو سمجھائیں۔‘
اقصیٰ خالد نے پولیس کو مزید بتایا کہ ان پیغامات کا ہراساں کرنے والے شخص پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ ’26 فروری کو رات ساڑھے 8 بجے عدیل میرے دفتر آیا۔ میں نے اُسے کہا کہ مجھے تنگ نہ کرو، اور یہاں سے جاؤ۔ مگر وہ بدتمیزی کرتا رہا۔ اور پھر مجھ سے دست درازی شروع کر دی۔ اور میرا بازو مروڑا۔ جس سے میں ذہنی اور جسمانی اذیت میں مبتلا ہو گئی۔‘
ایف آئی آر میں مزید بتایا گیا ہے کہ اقصیٰ خالد نے ون فائیو پر فون کر کے پولیس طلب کی۔ اہلکاروں نے اُن سے کہا کہ وہ تھانے میں جا کر مقدمہ درج کرائیں جس پر اپنے والد کے ہمراہ پولیس سٹیشن جا کر مقدمہ درج کرایا۔
مقدمے میں تعزیرات پاکستان کی دفعات 354 اور 509 شامل کی گئی ہیں۔
اس واقعے کے حوالے سے ایک عینی شاہد نے نام شائع نہ کرنے کی درخواست پر پاکستان24 کو بتایا کہ ”واقعہ نیوزروم میں سی سی ٹی وی کیمروں کے نیچے 92 نیوز کے 6 اسٹاف ممبران کے سامنے پیش آیا۔ 8 بجے کے قریب ایف آئی آر میں نامزد عدیل اپنی نشست پر بیٹھا کام کر رہا تھا کہ مدعیہ مقدمہ اقصیٰ خالد نے اپنے کیبن سے آ کر عدیل سے کہا کہ تم سیدھے ہو جاؤ۔ عدیل کے پوچھنے پر کہ انہوں نے کیا کیا ہے، اقصیٰ نے کہا کہ تم سیدھے ہو جاؤ ورنہ مجھے سیدھا کرنا آتا ہے۔ عدیل نے اقصیٰ سے دوبارہ پوچھا تو اقصیٰ چلانے لگی اور کسی خاتون کا نام لینے لگیں کہ میں وہ نہیں ہوں، میں تمہیں سیدھا کر دوں گی۔ عدیل نے جواب میں کہا کہ کیا ہوگیا۔ اس پر دونوں کی آوازیں اونچی ہو گئیں۔ اقصیٰ نے عدیل سے موبائل چھیننے کی کوشش کی( عدیل کا موبائل فون) تاہم اس میں ناکامی پر انہوں نے پہلے عدیل کے منہ پر ہاتھ سے مارا اور پھر بوتل سے مارا (زور سے نہیں)۔ اس دوران عدیل اپنا موبائل اپنی گرفت میں کر رہا تھا کہ اقصیٰ نے موبائل سے ویڈیو بنانی شروع کی اور کہنے لگی میرا ہاتھ چھوڑو۔ دفتر کے باقی افراد بیچ بچاؤ کر رہے تھے مگر اقصیٰ کی آواز اتنی اونچی تھی کہ سب خود کو بھی بچانے لگے۔ ایسے میں دونوں نے ایک دوسرے کو بے نقط سنائیں اور اقصیٰ نے عدیل کی ایج شیمنگ کے ساتھ ان پر دھوکہ دہی یا شادی کا آسرا دینے کا الزام لگایا۔ زبانی تکرار کے بعد اقصیٰ نے پولیس کو فون کیا اور یکے بعد دیگر تین مزید کالز ملائیں۔ اس موقع پر درجہ حرارت کم کرنے کے لیے آفس کے سب سے سینیئر افسر نے باقی اسٹاف کو کسی ایک کو نیوز روم سے باہر لے جانے کا کہا۔ پہلے اقصیٰ خالد کو قائل کرنے کی کوشش کی گئی تاہم نہ ماننے پر عدیل کو تین کولیگز دفتر سے باہر لے کر گئے۔ دونوں کسی بھی صورت دفتر سے باہر نہیں جا رہے تھے۔ عدیل کے باہر جانے پر سٹاف نے اقصیٰ کو پانی پلایا اور اقصیٰ خالد کو بتایا کہ جو بھی معاملہ ہے بات چیت سے حل کریں۔ اقصیٰ کو ہمدردی کے الفاظ پسند نہیں آئے اور انہوں نے اس معاملے کو نجی قرار دیا جس پر خاموشی اختیار کی گئی۔
15 پر کال کی وجہ سے پولیس دفتر کے باہر آئی اور رپورٹر کو یقین دہانی کرائی تو اقصیٰ کو ایک ٹیکنیکل سٹاف کے بندے نے سمجھایا کہ اب آپ کو تھانے میں ایف آئی آر کی درخواست دینی ہوگی۔ اقصیٰ مسلسل فون پر مختلف لوگوں سے بات کرکے معاملے کے بارے میں بتاتی رہیں اور وہ عدیل کے باہر جانے کو بھاگ جانا کہتی رہیں۔“
دفتر کے عینی شاہد کے مطابق ”اس پورے واقعے کا تناظر ممکنہ طور پر دونوں کے درمیان کسی غلط فہمی یا جھگڑے کی وجہ سے ایموشنل ڈیمج تو ہوسکتا ہے تاہم کسی بھی طرح یہ ہراسمنٹ یا مین ہینڈلنگ نہیں۔“

