میرا آخری کالم، لیکن ’ڈان‘ کو ہر صبح طلوع ہوتے رہنا چاہیے
عباس ناصر
پندرہ برس قبل روزنامہ ڈان کے ’اوپیڈ‘ (ادارتی صفحہ) کے ایڈیٹر نے مجھ سے اس اخبار کے لیے لکھنے کی فرمائش کی۔ میں ایک رپورٹر اور ایڈیٹر تو تھا لیکن خود کو کبھی کالم نگار کے طور پر نہیں دیکھا تھا۔ تاہم چیف ایڈیٹر کی منشا اور آشیرواد کے ساتھ ادارتی صفحہ کے ایڈیٹر نے بالآخر مجھے قائل کر ہی لیا۔
پچھلی ڈیڑھ دہائی کے دوران میرے ایڈیٹرز نے مجھے اپنی پسند کے موضوعات پر لکھنے کی مکمل آزادی دی اور کبھی ایک بار بھی تحریر کے متن پر اعتراض نہیں کیا۔ جہاں کہیں (حکومت یا مقتدر حلقوں کی جانب سے) دباؤ آیا، انہوں نے اسے خود سہا اور مجھے اپنا کام جاری رکھنے دیا۔ میں نے اس آزادی کا بھرپور لطف اٹھایا اور کبھی لکھنے کا کوئی ایک ہفتہ بھی ضائع نہیں ہونے دیا جس کے لیے میں ان کا بے حد ممنون ہوں۔
میں اپنے قارئین کا بھی تہہِ دل سے شکر گزار ہوں جنہوں نے نہ صرف میری تحریریں پڑھیں بلکہ ان برسوں میں اپنی قیمتی رائے سے بھی نوازا۔
آخر میں میں اپنی اہلیہ کارمین اور اپنی دو بیٹیوں عالیہ اور ایلینا کا بے حد مقروض ہوں جنہوں نے ہمت اور صبر کے ساتھ مجھے اپنے ویک اینڈ کے پروگراموں میں سے وقت نکالنے کی اجازت دی کیونکہ میں ہفتے کا آدھا دن لکھنے کے لیے وقف کر دیتا تھا۔ خاص طور پر اپنے عزیز دوست سیرل المیڈا کی رخصتی کے بعد، جن کے کالم والا دن مجھے مل گیا تھا۔
یہاں تک کہ ’پائرینیز‘ کے پہاڑوں جیسے دور دراز مقامات پر چھٹیاں منانے کے دوران بھی کارمین نے اس بات کو یقینی بنایا کہ ان کا لیپ ٹاپ فون سے منسلک رہے تاکہ میں اپنا کالم بھیج سکوں۔
ہر اچھی چیز کی طرح (کم از کم میرے لیے)، میرا یہ کالم بھی اب اپنے انجام کو پہنچ رہا ہے جیسا کہ کوئی بھی باذوق قاری دیکھ سکتا ہے، اخبار میں اب اشتہارات بہت کم رہ گئے ہیں۔
مقتدر حلقوں نے نہ صرف اخبار کے سرکاری اشتہارات پر پابندی لگائی ہے بلکہ نجی کارپوریٹ اداروں کو بھی اس سے دور رہنے پر مجبور کیا ہے۔ ’ڈان‘ کو اپنی ادارتی آزادی برقرار رکھنے کی بھاری قیمت چکانا پڑ رہی ہے۔
میں بیرون ملک مقیم ہوں۔ موجودہ مالی بحران کے باعث، زرمبادلہ میں ادائیگیوں کا بوجھ اب یہ اخبار مزید برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتا۔ یہ دیکھ کر میرا دل خون کے آنسو روتا ہے کہ ’ڈان‘ اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔ کالم نگار تو آتے جاتے رہتے ہیں لیکن ’ڈان‘ کے سورج کو ہر صبح طلوع ہوتے رہنا چاہیے۔

