اتاترک ایونیو پر درختوں کی کٹائی روکنے کا حکم، حکومت سے جواب طلب
اسلام اباد ہائیکورٹ کے جسٹس خادم حسین سومرو کی عدالت نے درخواست گزار عائشہ مظفر کی درخواست پر اتا ترک ایونیو پر ایکسپریس چوک سے آغا خان روڈ تک سی ڈی اے کو ہر قسم کے درختوں کی کٹائی سے روک دیا ہے۔
بدھ کو درخواست گزار عائشہ مظفر کی طرف سے مدثر لطیف عباسی اور عمیر اسد ایڈوکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔
مدثر لطیف عباسی ایڈوکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ رٹ پٹیشن نمبر 153/2026 میں جناب کی عدالت کا آرڈر ہے کہ سی ڈی اے اسلام آباد میں کسی قسم کی درختوں کی کٹائی نہیں کر سکتا اس کے باوجود متعلقہ اتھارٹی 15 جنوری 2026 کے فیصلے کی صریح خلاف ورزی کر رہی ہے۔
دلائل دیتے ہوئے ایڈووکیٹ مدثر لطیف عباسی نے کہا کہ ہر قسم کی ٹریفک مینجمنٹ کا حل سی ڈی اے نے یہ نکال لیا ہے کہ درختوں کو کاٹ کے سڑکوں کو کھلا کیا جائے۔ لیکن یہ مسئلے کا حل نہیں، ایک طرف کفایت شعاری مہم چل رہی ہے اور دوسری جانب اربوں روپے اس طرح کے منصوبوں پر لگائے جا رہے ہیں۔
اپنے دلائل میں درخواست گزار کے وکیل نے مزید کہا کہ 55 سے زائد بڑے درخت اور بیسیوں چھوٹے درخت اس پروجیکٹ کی وجہ سے کاٹے جائیں گے، ایک طرف پیٹرول کے استعمال پر انوائرمنٹل لیوی لی جا رہی ہے اور دوسری طرف درختوں کو کاٹا جا رہا ہے۔
جسٹس خادم سومرو نے دلائل سننے کے بعد سی ڈی اے کو ہر قسم کے درختوں کی کٹائی سے روک دیا اور نوٹس جاری کرتے ہوئے منگل کو درخواست میں جوابدہ بنائے گئے فریقین سے جواب طلب کر لیے ہیں۔

