’جہالت ریاستی ٹاؤٹ بن کر تمغے لینے سے لاکھ گنا بہتر ہے‘، سوشل میڈیا پر دو اینکروں کی لڑائی
پاکستان کے سوشل میڈیا پر دو ٹی وی اینکروں کے درمیان ایک دوسرے پر الزامات کا تبادلہ ہوا ہے-
معروف تجزیہ کار نجم سیٹھی کے ساتھ جیو نیوز پر شو کی میزبانی سے مشہور ہونے والے اینکر منیب فاروق نے اینکر امیر عباس کی ولاگ پر مشتمل ویڈیو پوسٹ کر کے لکھا کہ ’وہ تہران کا صحافی بھی ان ہی کے جیسا ہوگا، کیا جہالت ہے ویسے-‘
اس پوسٹ کو ری پوسٹ کر کے اینکر امیر عباس نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے منیب فاروق کو ریاستی ٹاؤٹ قرار دیا ہے-
انہوں نے 365 نیوز سے منسلک اینکر کو مخاطب کر کے لکھا کہ ’منیب صاحب ! وہ تہران کا صحافی جون حسین ہے جو 40 دن تک پاکستان کے ہر چینل کا لازمی حصہ تھا، یہ خبر میری نہیں جون کی تھی جو انہوں نے وفد کے پہنچنے سے تقریبا 8 گھنٹے پہلے دی تھی-‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’اب آ جائیں آپ کے مجھ پر ذاتی طنز پر، ایک احترام کا تعلق تھا جس پر اچھا ہوا کہ آپ نے عوامی حملہ کیا ہے تو پیشگی معذرت کہ میں اب دفاعی حملہ کر رہا ہوں-‘
امیر عباس نے منیب فاروق کو لکھا کہ ’آپ چونکہ وکالت سے نجم سیٹھی اور وہاں سے براہ راست ٹاؤٹی کی اعلی منزل تک پہنچ گئے لہذا آپ اور آپ جیسے دیگر کے لیے عرض ہے کہ عالمی سیاسی تاریخ کے اس طرح کے تمام بحرانوں میں حالات اور خبریں آخری لمحہ تک بدلتی رہتی ہیں، مثال کے طور پر Dayton Peace Agreement اور Oslo Accords۔ ایسے معاملات میں 3 چیزیں لازمی حصہ ہوتی ہیں اور وہ اُسی طرح خبر بھی بنتی ہیں- یعنی
1. Continuous uncertainty
2. Shifting positions
3. Last-minute changes
امیر عباس نے منیب فاروق کو ری پوسٹ کر کے مزید لکھا ہے کہ ‘رہی بات جہالت کی، تو خدا کی قسم، جہالت ریاستی ٹاؤٹ بن کر تمغے لینے، صحافت کے لبادے میں گماشتہ بن کر مغوی سیاستدان شیخ رشید کا انٹرویو کرنے، حکمرانوں کی اندھیر نگری پر پردہ ڈالنے اور فسطائیت کا وکیل صفائی بننے سے ہزار نہیں، لاکھ نہیں بلکہ زندگی کے ہر جنم سے بہتر ہے-‘
انہوں نے آخر میں ایک بار پھر اینکر منیب فاروق سے معذرت کرتے ہوئے لکھا کہ ’میں چونکہ سادہ اور سیدھا آدمی ہوں، جواب بھی ویسا ہی دیتا ہوں۔ امید ہے کہ ہمارا احترام کا تعلق اس کے بعد واپس بحال ہو جائے گا-‘
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر یہ دو طرفہ حملے اُس وقت شروع ہوئے جب عرب نیوز ڈاٹ پی کے ویب سائٹ سے منسلک وسیم عباسی نامی رپورٹر نے بول نیوز کے اینکر امیر عباس کی ولاگ کے ایک حصے کی ویڈیو پوسٹ کر کے اس پر کیپشن لگایا کہ ’ایرانی وفد پاکستان نہیں آئے گا۔ اینکر امیر عباس کا یہ دعوی غلط نکلا۔‘

