اگر اجازت کے بغیر درخت کاٹے تو توہینِ عدالت کی کارروائی ہوگی: اسلام آباد ہائیکورٹ
اسلام اباد ہائیکورٹ نے عدالتی حکمِ امتناع کے باوجود وفاقی دارالحکومت درختوں کی کٹائی پر سخت برہمی ظاہر کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو توہین عدالت کی کارروائی سے خبردار کیا ہے۔
جمعرات کو ہائیکورٹ میں شہر کے مختلف سیکٹرز میں درختوں کی کٹائی روکنے کے لیے دائر کیسز کی سماعت ہوئی۔
درخواست گزاروں کی جانب سے مدثر لطیف عباسی ایڈووکیٹ اور عمیر اسد ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔
مدثر لطیف عباسی ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ باوجود 15 جنوری اور آٹھ اپریل کے حکمِ امتناع کے سی ڈی اے درخت کاٹ رہا ہے جس پر جسٹس خادم حسین سومرو نے شدید برہمی کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ اُن کی عدالت نے ایک سال کے دوران تو کسی کے خلاف بھی توہین عدالت کی کارروائی نہیں کی لیکن اگر اب ایک بھی درخت کٹا تو اس پر توہین عدالت کی کارروائی کی جائے گی۔
مدثر عباسی ایڈوکیٹ نے عدالت کو مزید بتایا کہ جو پیراوائز کمنٹس سی ڈی اے کی طرف سے جمع کرائے گئے ہیں ان میں کہیں بھی نہیں بتایا گیا کہ جو درخت کاٹے کیا وہ کسی ایکسپرٹ کی رپورٹ کے بعد کاٹے ہیں، انہوں نے پیپر ملبری کا نام استعمال کرتے ہوئے اسلام آباد سے 30 ہزار سے زائد درخت کاٹ دیے ہیں۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو مزید بتایا کہ پاکستان انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی جس سے پہلے اجازت لینا ضروری ہے وہ بھی نہیں لی گئی اور اس کا اعتراف پاکستان انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی نے اپنے پیراوائز کمنٹس میں بھی کیا ہے۔
عدالت کی جانب سے اس پر حیرت کا اظہار کیا گیا۔
مدثر عباسی ایڈوکیٹ نے عدالت کو بتایا نہ تو کوئی ایسا سیٹیلائٹ سروے کیا گیا نہ کوئی ایسا میکنزم اختیار کیا گیا کہ جس سے پتہ لگے کہ جو درخت کاٹے جا رہے ہیں وہ پیپر ملبری کے درخت تھے۔
جسٹس سومرو نے سی ڈی اے کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا انہوں نے کوئی ماہر ہائر کیا تھا یا کوئی ماہرانہ رائے لے کر درخت کاٹے ہیں، اس حوالے سے عدالت کو مطمئن کریں۔
جسٹس سومرو کا کہنا تھا کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ اسلام اباد اتنا خوبصورت شہر تھا اور اس میں سی ڈی اے نے بغیر کسی ماہر کو لیے پورے شہر سے درختوں کو کاٹ دیا ہے۔
سی ڈی اے کے وکیل نے اس پر عدالت سے مزید وقت مانگا کہ کہ اُن کو مہلت دی جائے اور وہ اس حوالے سے عدالت کی معاونت کریں گے۔
جسٹس سومرو نے سماعت کے اختتام پر پھر دہرایا کہ اگر اب کوئی بھی درخت کیس کے فیصلے سے قبل کاٹا گیا تو اس پر توہین عدالت کی کاروائی کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایک ہی تو شہر پاکستان میں خوبصورت رہ گیا ہے اس کو رہنے دیں، یہاں کے رہنے والوں پر رحم کریں۔
کیسز کی سماعت جمعرات تک کے لیے ملتوی کر دی گئی ہے۔

