امن کا ’تاریخی‘ موقع، اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی
لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے جس 10 روزہ معاہدے کا اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیا تھا اس کا آغاز اب ہو چکا ہے۔
لبنان کے صدر نے جوزف عون نے اس معاہدے کا خیرمقدم کیا، جبکہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اس اسے امن کا ’تاریخی‘ موقع قرار دیا ہے۔
ایران کی حامی حزب اللہ کا کہنا ہے کہ وہ اس معاہدے کی پاسداری کرے گی لیکن جنگ بندی سے قبل وہ اسرائیلی فورسز کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ کرتی رہی ہے۔
ادھر ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ لبنان میں جنگ بندی پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والے ابتدائی ایران‑امریکہ معاہدے کا حصہ تھی۔
ان کا کہنا ہے کہ ایران نے ’ابتدا ہی سے‘ اس بات پر زور دیا تھا کہ ’پورے خطے، بشمول لبنان، میں بیک وقت جنگ بندی‘ کی ضرورت ہے۔
بقائی نے لبنان کے عوام اور حکومت کے ساتھ ’یکجہتی‘ کا اظہار کیا اور جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کے ’مکمل انخلا‘ کی ضرورت پر زور دیا، ایک ایسا اقدام جس کی اسرائیلی وزیرِاعظم پہلے ہی نفی کر چکے ہیں۔
انھوں نے تمام قیدیوں کی رہائی، بے گھر ہونے والے رہائشیوں کی اپنے گھروں کو واپسی کا بھی مطالبہ کیا اور اسرائیل‑لبنان جنگ بندی معاہدہ طے کرانے میں پاکستان کی کوششوں پر اس کا شکریہ ادا کیا۔

