’اداکارہ میرا کے صبر کو سلام‘، ارشاد بھٹی کے سوالات پر سوشل میڈیا صارفین کا سخت ردعمل
پاکستان کے نجی چینل جیو نیوز کی سکرین کے تجزیہ کار ارشاد بھٹی کی اداکارہ میرا کے ساتھ پوڈکاسٹ کے ٹیزر کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہے-
ایک منٹ اور 15 سیکنڈز کی اس ویڈیو میں ارشاد بھٹی کے سوالات اور میرا کی جانب سے جواب پر سوشل میڈیا پر صارفین اپنے تبصروں میں معاملے کے مختلف پہلو اجاگر کر رہے ہیں-
اس ویڈیو کلپ کو اب تک ہزاروں پاکستانی صارفین ایکس اور فیس بک پر پوسٹ کر کے ارشاد بھٹی پر غم وغصے اور میرا کے لیے ہمدردی کا اظہار کر چکے ہیں-
سندھ سے تعلق رکھنے والی سیاست دان سائرہ بانو نے یہ ویڈیو کلپ شیئر کر کے ایکس پر لکھا کہ ’تھوڑی اخلاقیات کا مظاہرہ ہی کر لیتے- میرا صاحبہ بہت آرام سے چلی گئیں دو ہاتھ لگا کر اٹھتیں تو اچھا ہوتا-‘
اس پر وسیم خان نامی صارف نے تبصرہ کیا کہ ’بہت اچھی وضع دار خاتون ہیں جو اتنے اخلاق سے رخصت ہو گئیں اور یہ گھٹیا منحوس محرومیوں میں پلا ہوا بے غیرت انسان کسی کے منہ پہ بیٹھ کے اس کی کردار کشی کر رہا ہے۔ انتہا کا گھٹیا انسان ہے ارشاد بھٹی-‘
ڈاکٹر نعیم میئو آفیشل نامی ایکس ہینڈل نے ویڈیو پوسٹ کر کے لکھا کہ ’ارشاد احمد بھٹی کو چاہیے تھا کہ پیسے جمع کر کے سر پر بال لگوانے کے بجائے کہیں سے تھوڑی شرم خرید لیتا۔ کچھ باتیں بہت پرسنل نوعیت کی ہوتی ہیں جو اگلے بندے کی اجازت کے بغیر نہیں پوچھ سکتے۔ پتہ ہوتے کہ وہ Uncomfortable ہو رہی ہے پھر بھی تھوڑی سی شرم نہیں آئی اور بار بار ایک بات پوچھ کر انتہائی گھٹیا پن کا مظاہرہ کیا ہے۔ میرا میڈم کی لائف جیسی بھی ہے وہ اس کی اپنی لائف ہے اور بھٹی صاحب آپ کو یہ گھٹیا یوٹیوبرز والی حرکت زیب نہیں دیتی۔‘
عباس نامی ہینڈل سے یہ ویڈیو ری پوسٹ کر کے لکھا گیا کہ ’ارشاد بھٹی ایک اوباش اور لفنگا انسان ہے جس کو آصف غفور اور فیض حمید والوں نے صحافتی رنگ چڑھا کر لانچ کیا، یہ اپنے شعبے پر ایک بدنما دھبہ اور کالک ہے-‘
تجزیہ کار عمر آر قریشی نے پوچھا کہ ’کیا جیو نیوز وضاحت کرے گا کہ ارشاد بھٹی کو بطور تجزیہ کار پرائم ٹائم شوز میں بٹھا کر معاوضہ کیوں دیا جا رہا ہے؟‘
انٹرویو کے دوران اداکارہ میرا کہہ رہی ہیں وہ اُن کی فلم کے سیٹ پر آئے تو ان کا شکریہ، اس لیے فلم سائیکو سے متعلق سوالات کریں- اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اداکارہ میرا نے ارشاد بھٹی کو انٹرویو کا وقت دیا تھا اور نہ ہی پوڈکاسٹ کا بلکہ وہ ان کی فلم کی پروموشن کی تقریب تھی-
محمد سمیع نامی ایکس ہینڈل نے تو اس معاملے پر وزارت اطلاعات اور پنجاب کے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کو آواز دے دی- لکھا کہ ’ویسے جو انٹرویو کا طریقہ ارشاد بھٹی نے اداکارہ میرا کے ساتھ اپنایا، یہ بالکل وہ ہی قبیح فعل ہے جس پر CCD ایکشن لے لیتی ہے۔ یہ سراسر ہراسمنٹ بلکہ خاتون کے ساتھ جبری طور پر اپنی رائے قائم کرنے کا جرم ہے۔ اب دیکھتے ہیں اس پر وزارت نشریات و اطلاعات ردعمل دکھاتی ہے یا پھر سی سی ڈی-‘
نمکین حکیم نامی ایکس ہینڈل نے ویڈیو پوسٹ کر کے تبصرہ لکھا کہ ’ارشاد احمد بھٹی کے مقابلے میں میرا محترم لگی۔ ذلیل آدمی سہیل وڑائچ سے بھی نیچے گر گیا۔‘
ارشاد بھٹی کی ویڈیو پر سخت عوامی ردعمل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تجزیہ کار انیق ناجی نے تبصرہ کیا کہ ’سچی بات کہ مایوس ہو چلا تھا، لیکن بہت بہت خوشی ہے کہ اجتماعی ضمیر ابھی زندہ ہے۔ صرف یہ عوامی ردعمل ہی ہے جو ان جیسوں کو واپس اپنی جگہ لے کر جا سکتا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’اپنے پروگرام کو ہٹ بنانے کے لیے یہ لوگ دوسرے کو ذبح تک کر سکتے ہیں۔ یہ قصائی ہیں، درندے جن کا علاج یہی ہے جو ہو رہا ہے۔‘
شارین کوثر نامی ایکس ہینڈل نے ایک اعلان کیا اور ساتھ ہی سوال بھی پوچھا کہ ’ہم ارشاد بھٹی کا یوٹیوب چینل آج سے دیکھنا بند کر رہے ہیں۔ کیا صحافی حضرات ان کے ساتھ ٹی وی شوز میں بیٹھنا بند کریں گے؟‘
ڈاکٹر صغریٰ صدف نے ایکس پر سوال پوسٹ کیا کہ ’ارشاد بھٹی نے ایک اداکارہ سے جس انداز میں سوالات کیے، کیا وہ بُشری بی بی اور جمائمہ کا بھی ایسا انٹرویو کر سکتے ہیں؟
اس سوال کو ری پوسٹ کر کے فری وِل نامی ہینڈل نے تبصرہ کیا کہ ارشاد بھٹی ایک انتہائی گرا ہوا شخص ثابت ہوا- ایک کمزور عورت پر حملہ آور ہوا اپنے مشہور ہونے اور آزادی سوال کو ہتھیار کے طور پہ استعمال کیا اور میرا کو مکمل یراساں کیا۔ ارشاد بھٹی پر ایف آئی آر درج ہونی چاہیے-‘
امبر دانش نامی خاتون کے ہینڈل سے ویڈیو پوسٹ کر کے لکھا گیا کہ ’یہ بھٹی نامی صحافی (جو یہ کلپ دیکھنے کے بعد صحافت پر دھبہ محسوس ہو رہا ہے)، موصوف کی اپنی کوئی بیٹی، بہن ہے؟ حیرت ہے اداکارہ میرا نے اس کی گفتگو برداشت کیسے کی؟ ایک تھپڑ رسید کر کے ہی اٹھنا چاہیے تھا۔‘
اس پوسٹ کو ری پوسٹ کر کے راحیلہ مجاہد نے کہا کہ ’نامناسب سوالات ارشاد بھٹی نے کیے، کسی خاتون کا ظرف ہے کہ اس نے خاموشی اور حسن سلوک کا مظاہرہ کیا جس کے یہ موصوف قطعاً حق دار نہیں تھے-‘
فرحان ملک نام کے ایکس اکاؤنٹ سے تبصرہ کیا گیا کہ ’اعلی ظرف خاتون تھی خاموشی سے انٹرویو چھوڑ کر چلی گئی۔ ورنہ کم ظرفی کا کوئی ایسا لیول نہیں بچا تھا جو ارشاد بھٹی نے عبور نہیں کیا۔‘
محمد کاشف نے لکھا کہ ’ارشاد بھٹی صاحب آج آپ بھی دل سے اتر گئے بڑی عزت تھی آپ کی، …. ہو آپ پر، ایک عورت کو سامنے بٹھا کے ذلیل کیا آپ نے-‘
ایڈووکیٹ عبدالمجید مہر نے ویڈیو کلپ پر تبصرہ کیا کہ ’ارشاد بھٹی سوال ایسے پوچھ رہا ہے جیسے اس ملک پر حکمرانی میرا کی رہی ہے، ایسے گھٹیا ذاتی زندگی کے متعلق سوال پوچھ کر دکھائے کسی پپلزپارٹی یا ن لیگ کی خاتون سے تو اسے پتہ چلتا، ویسے میرا کے صبر کو سلام جو ایسے بیہودہ سوالات پر بھی تحمل کا مظاہرہ کرتی دکھائی دے رہی ہے-‘
شاکر جگن نامی ایکس ہینڈل سے لکھا گیا کہ ’کاش میرے پاس وہ الفاظ ہوتے جو میں اس بندے کے لیے بول سکتا۔ ٹھیک ہے لوگ گھٹیا ہوتے ہیں لیکن اس ارشاد بھٹی کا الگ ہی لیول ہے مجھے یہ کلپ دیکھ کر ڈر لگ رہا تھا کیا اس بندے سے خواتین محفوظ ہیں؟ عدت کے بغیر نکاح کیس پر اس کو بہت غیرت آ رہی تھی۔‘

