کینیڈین ڈریم کا دوسرا رخ: خواب جو آنکھوں میں سجے، مگر دلوں کو توڑ گئے
تحریر: نورالامین، ٹورنٹو کینیڈا
مغربی ممالک میں مستقل سکونت یا سیٹل ہونے کا خواب جسے لاکھوں لوگ اپنی زندگی کا سب سے بڑا مقصد سمجھتے ہیں۔ایک محفوظ مستقبل، بہتر مواقع اور خوف سے آزاد زندگی مگر انہی خوابوں کے پیچھے کچھ ایسی کہانیاں بھی چھپی ہیں جو دل کو ہلا کر رکھ دیتی ہیں۔
انتظار ،جدائی ، تنہائی اور بجانے کیا کیا نفیساتی مسائل بلکہ کبھی کبھی تو اس تیز رفتار زندگی میں مقررہ وقت پر اس لئے سونا کہ صبح کام پہ جانا ہے یوں لگتا ہے جیسے یہاں کا انسان سوتا بھی کل کام پر جانے کے لئے ہے۔
دنیا بھر میں انسانی حقوق اور امن و امان کے حوالے سے محفوظ ترین سمجھا جانیوالے ملک کینیڈا میں لاکھوں افراد پناہ گزین کی زندگی گزار رہے ہیں۔ان میں سے ہر ایک کی الگ داستان ہے لیکن ان میں سے کچھ کہانیاں بہت دردناک ہیں۔
ایک پناہ گزین، جو پاکستان میں بہت سینئر لیول کا پولیس افسر رہ چکا تھا، اپنی جان کے خطرات کے باعث کینیڈا آ گیا۔ وہ اپنے پیچھے اپنا گھر، اپنی پہچان اور اپنے بچے اور عہدہ سب کچھ چھوڑ کر اس امید پر یہاں آتا ہے کہ اسے چند مہینوں میں حالات میں بہتری کی امید کیساتھ چند ماہ میں بچوں کے یہاں پہنچ جانے کی امید تھی۔مگر یہاں تو سال مہینوں میں بدل گئے۔ جب بالآخر اسے اپنے بچوں سے ملنے کا موقع ملا، تو وہ لمحہ اس کی زندگی کا سب سے بڑا صدمہ بن گیا۔ بچوں نے اسے پہچانا ہی نہیں وہ ان کے لیے ایک اجنبی بن چکا تھا۔ ایک باپ کے لیے یہ صرف جدائی نہیں بلکہ ایک ایسا زخم ہے جو شاید کبھی نہیں بھر سکتا۔
اسی طرح ایک اور شخص، جو کئی سالوں سے اپنے کیس کے فیصلے کا انتظار کر رہا ہے، بتاتا ہے کہ یہ انتظار اس کی زندگی پر کس طرح حاوی ہو گیا۔ ہر دن امید کے ساتھ شروع ہوتا اور مایوسی پر ختم ہو جاتا۔ وقت کے ساتھ یہ بے یقینی اس کے ذہن پر بوجھ بنتی گئی۔تنہائی، خوف اور غیر یقینی نے اسے اس حد تک متاثر کیا کہ اس نے مبینہ طور پر نشے کا سہارا لینا شروع کر دیا۔ وہ کہتا ہے کہ یہ اس کے لیے حقیقت سے فرار کا واحد راستہ بن گیا ہے۔
ایک اور کیس میں ایک شخص نے بتایا کہ اس کے امیگریشن کیس کی طویل تاخیر نے اس کی صحت پر شدید اثر ڈالا۔ اس کے مطابق، اسے کئی بار دل کے دورے پڑے، وہ ہسپتال کے چکر لگاتا رہا، مگر اس کے کیس میں کوئی حتمی پیش رفت نہ ہو سکی۔ اس نے Immigration, Refugees and Citizenship Canada سے متعدد بار رابطہ کیا اور منتخب نمائندوں سے بھی مدد مانگی، مگر اس کے بقول اس کا کیس آج بھی زیر التواء ہے۔
کچھ درخواست گزار یہ بھی شکایت کرتے ہیں کہ انہیں اپنے قانونی نمائندوں سے بروقت رہنمائی نہیں ملتی۔ اہم معلومات، سرکاری خطوط اور ڈیڈ لائنز اکثر ان تک وقت پر نہیں پہنچتیں، جس کی وجہ سے وہ مزید مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ بعض افراد کا کہنا ہے کہ انہیں اپنے کیس کی مکمل معلومات تک براہ راست رسائی بھی حاصل نہیں ہوتی، جو ایک الگ پریشانی کا باعث بنتی ہے۔
چند افراد نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ بعض امیگریشن درخواستیں وکیل صاحبان ایک ہی انداز میں تیار کر کے جان چھڑوا لیتے ہیں۔ جس سے انکے کیس پر بہت برا اثر پڑتا ہے
سرکاری مؤقف کے مطابق ہر کیس کو انفرادی بنیاد پر دیکھا جاتا ہے اور انصاف کو یقینی بنانے کے لیے مکمل قانونی نظام موجود ہے۔ تاہم کیسز کی بڑی تعداد اور دیگر عوامل کی وجہ سے تاخیر ایک حقیقت ہے، جس کا اثر براہ راست درخواست گزاروں کی زندگیوں پر پڑتا ہے۔
کینیڈین ڈریم… ایک ایسا خواب جس کے لیے لوگ سب کچھ قربان کر دیتے ہیں۔ مگر کچھ کے لیے یہی خواب ایک کڑا امتحان بن جاتا ہے—جہاں ایک باپ اپنے بچوں کی پہچان کھو دیتا ہے، کوئی شخص ذہنی دباؤ میں اپنی زندگی کی سمت کھو بیٹھتا ہے، اور کوئی اپنی صحت کی جنگ لڑتے ہوئے انصاف کا انتظار کرتا رہتا ہے۔
یہ کہانیاں ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہیں کہ کیا یہ خواب واقعی سب کے لیے یکساں ہے یا کچھ لوگوں کے لیے یہ صرف ایک طویل اور تکلیف دہ سفر ہے۔

