عالمی خبریں

کیا پینٹاگون میں ‘وفاداری’ کا امتحان جاری ہے؟ بحریہ کے سیکریٹری کی برطرفی اور فوجی قیادت میں ہلچل

اپریل 24, 2026

کیا پینٹاگون میں ‘وفاداری’ کا امتحان جاری ہے؟ بحریہ کے سیکریٹری کی برطرفی اور فوجی قیادت میں ہلچل

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بحریہ (نیوی) کے سیکریٹری جان فیلان کو عہدے سے برطرف کیے جانے کے بعد واشنگٹن کے دفاعی حلقوں میں ایک بار پھر یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ کیا امریکی فوج کی اعلیٰ کمان میں ہونے والی تبدیلیاں محض انتظامی نوعیت کی ہیں یا اس کے پیچھے کوئی گہرا تزویراتی ایجنڈا کارفرما ہے۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق جان فیلان کو جہاز سازی (shipbuilding) کے معاملات پر پینٹاگون کی سینیئر قیادت سے پیدا ہونے والے تناؤ کے باعث ہٹایا گیا ہے اور ان کی جگہ ہنگ کیو کو قائم مقام سیکریٹری کی ذمہ داریاں سونپ دی گئی ہیں۔

تاہم مبصرین کا ماننا ہے کہ یہ برطرفی کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں بلکہ صدر ٹرمپ اور وزیرِ جنگ پیٹ ہیگسیٹھ کی جانب سے گزشتہ ڈیڑھ برس کے دوران جاری اس مہم کا تسلسل ہے جس کا مقصد امریکی عسکری قیادت کے ڈھانچے کو مکمل طور پر تبدیل کرنا ہے۔

سنہ 2025 سے اب تک ایک درجن سے زائد سینیئر کمانڈروں کو جن حالات میں عہدوں سے ہٹایا یا ریٹائرمنٹ پر مجبور کیا گیا ہے، اس نے پینٹاگون کے اندر ایک ایسی فضا پیدا کر دی ہے جہاں پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ ساتھ انتظامیہ سے نظریاتی ہم آہنگی کو بھی کلیدی حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔

اسی سلسلے کی تازہ کڑی رواں ماہ کے آغاز میں فوج کی اعلیٰ کمان میں کی گئی تبدیلیاں ہیں جن کے تحت آرمی چیف آف اسٹاف جنرل رینڈی جارج کو فوری طور پر ریٹائر کر دیا گیا جبکہ آرمی ٹرانسفارمیشن اینڈ ٹریننگ کمانڈ کے سربراہ جنرل ڈیوڈ ہڈنے اور آرمی چیف آف چیپلینز میجر جنرل ولیم گرین جونیئر بھی عہدوں سے سبکدوش کر دیے گئے۔

ٹرمپ انتظامیہ ان فیصلوں کو دفاعی اصلاحات اور جاری عالمی تنازعات کے تناظر میں درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک ناگزیر قدم قرار دیتی ہے۔
ان کا موقف ہے کہ پینٹاگون کو ایسے قیادت کی ضرورت ہے جو صدر ٹرمپ کے وژن کے مطابق تیزی سے فیصلے کر سکے۔

دوسری جانب دفاعی ماہرین اس غیرمعمولی تبدیلی پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ امریکی تاریخ میں عسکری قیادت کے اندر اتنے وسیع پیمانے پر ہونے والی یہ تبدیلیاں اس بات کی غمازی کرتی ہیں کہ پینٹاگون کا روایتی ادارہ جاتی توازن اب بدل رہا ہے۔
یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا یہ تبدیلیاں امریکی فوج کی جنگی صلاحیتوں کو بہتر بنائیں گی یا یہ عسکری ڈھانچے کے اندر ایک ایسی مستقل بے چینی کو جنم دیں گی جس کے اثرات طویل عرصے تک محسوس کیے جائیں گے-

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے